
نئی دہلی، 18 فروری (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس سال کے پہلے 15 دنوں میں 800 سے زیادہ لوگوں کے لاپتہ ہونے پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت، دہلی حکومت، دہلی پولیس اور قومی انسانی حقوق کمیشن کو نوٹس جاری کیا۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوئے وکیل نے کہا کہ رائٹ ٹو بی فاو¿نڈ(بازیاب ہونے کا اختیار) آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی کے حق کا لازمی حصہ ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ گمشدہ افراد کی تلاش کے لیے لازمی پروٹوکول پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ گمشدہ افراد کی تلاش کے لیے میعاری آپریٹنگ طریقہ کار تو جاری کیے گئے ہیں، لیکن ان پر سختی سے عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی میں بڑے پیمانے پر لوگ غائب ہو رہے ہیں، پھر بھی کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔
ایک خبر کے مطابق یکم سے 15 جنوری کے درمیان دہلی سے 807 لوگغائب ہوگئے ہیں۔ اس خبر پر دہلی میں بڑے پیمانے پر ردعمل سامنے آیا تھا۔ 6 فروری کو، دہلی پولیس نے اس حوالے سے انسٹاگرام پر ایک پیغام پوسٹ کیا، جس میں کہا گیا کہ گمشدگیوں میں اضافے کی خبروں کو پیسے کے لیے پروموٹ کیا جا رہا ہے۔ دہلی پولیس نے لوگوں میں خوف پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی انتباہ دیا۔ حالانکہ ، اس معاملے میں قومی انسانی حقوق کمیشن نے از خود نوٹس لیا اور دہلی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد