ایم پی اسمبلی اجلاس کے تیسرے دن کانگریس قانون ساز پارٹی نے حکومت کے ذریعہ لیے جا رہے قرض کے خلاف مظاہرہ کیا
بھوپال، 18 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی اجلاس کے تیسرے دن بدھ کو اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار کی قیادت میں کانگریس اراکین اسمبلی نے ریاستی حکومت کی طرف سے مسلسل لیے جا رہے بھاری قرض کے خلاف زوردار علامتی مظاہرہ کیا۔ اسمبلی احاطے میں مہاتما گاندھی
کانگریس قانون ساز پارٹی نے حکومت کی طرف سے لیے جا رہے قرض کے خلاف مظاہرہ کیا


بھوپال، 18 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی اجلاس کے تیسرے دن بدھ کو اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار کی قیادت میں کانگریس اراکین اسمبلی نے ریاستی حکومت کی طرف سے مسلسل لیے جا رہے بھاری قرض کے خلاف زوردار علامتی مظاہرہ کیا۔

اسمبلی احاطے میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے کانگریس اراکین اسمبلی ہاتھوں میں خالی گلک اور نعرے لکھی تختیاں لے کر پہنچے اور حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف احتجاج درج کرایا۔ اس دوران اراکین اسمبلی نے ریاست کی مالی حالت کو لے کر حکومت پر سنگین الزامات عائد کئے۔

اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار نے کہا کہ ریاستی حکومت اعداد و شمار کی بازی گری میں لگی ہوئی ہے، جبکہ ریاست پر کل قرض بجٹ سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت مسلسل قرض پہ قرض لیے جا رہی ہے، مدھیہ پردیش کے ہر طبقے کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور حکومت نے ریاست کی پیٹھ پر 5 لاکھ کروڑ سے زیادہ کا قرض لاد دیا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ یہ کوئی گلک نہیں، بلکہ ریاست کے عوام کی تجوری ہے جسے حکومت اور اس کے وزراء ڈکار گئے ہیں۔ پوری ریاست مہنگائی اور قرض کے بھاری بوجھ تلے دب گئی ہے، عام آدمی کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بجٹ اجلاس سے پہلے ہی حکومت کے ذریعے 5,600 کروڑ روپے کا قرض لیا جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست کو قرض کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے قرض لے کر ”گھی پی رہی ہے“ اور ترقی کے نام پر صرف بھرم پھیلایا جا رہا ہے۔

اقتصادی سروے کو جھوٹ کا پلندہ بتاتے ہوئے امنگ سنگھار نے دعویٰ کیا کہ سروے میں فی کس ماہانہ آمدنی 15–20 ہزار روپے مہینے بتائی گئی ہے، جو زمینی حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے حکومت سے ریاست کی حقیقی اقتصادی حالت عام کرنے اور بڑھتے قرض پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande