
گوہاٹی، 18 فروری (ہ س)۔ آسام پردیش کانگریس کمیٹی (اے پی سی سی) کے سابق صدر بھوپین کمار بورا نے آسام کانگریس کے اندر قیادت اور تنظیمی طاقت کو لے کر ایک بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورو گوگوئی اب آسام کانگریس کا محض چہرہ ہیں، جب کہ پارٹی کی اصل تنظیمی طاقت رقیب الحسین کے پاس ہے۔دھوبڑی کے رکن پارلیمنٹ رقیب الحسین کی انتخابی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے، بورا نے کہا کہ ان کی زبردست جیت پارٹی کی نچلی سطح پر موجودگی اور تنظیمی طاقت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ حسین کی مقبولیت اور اثر و رسوخ پارٹی کے اندر ان کی مضبوط پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے۔بھوپین بورا نے کہا کہ کانگریس قیادت کو اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے بعد راہل گاندھی نے انہیں ذاتی طور پر فون کیا۔ بورا کے مطابق، دونوں رہنماو¿ں نے 2007 سے اپنے تعلقات اور پارٹی کے لیے کیے گئے کام کے بارے میں تفصیل سے بات کی، لیکن ان کے استعفے کے موضوع پر بات نہیں ہوئی۔
قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما نے پہلے اعلان کیا تھا کہ بھوپین بورا باضابطہ طور پر 22 فروری کو بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوں گے۔اس اعلان کے بعد بورا نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی، جہاں دونوں رہنماو¿ں نے مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ کردار کے بارے میں تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ بھوپین بورا کے بیان نے آسامی سیاست میں ایک نئی ہلچل مچا دی ہے۔ کانگریس پارٹی کے اندر قیادت اور تنظیمی توازن پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ بورا کے بی جے پی میں شامل ہونے سے ریاست کی سیاسی حرکیات پر بھی اثر پڑنے کی امید ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan