
کٹھوعہ کے جنگلاتی علاقے میں دہشت گردوں کی تلاش جاری
جموں، 08 جنوری (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں جنگلاتی علاقے میں چھپے دہشت گردوں کا سراغ لگانے کیلئے جمعرات کی صبح سیکورٹی فورسز نے دوبارہ تلاشی آپریشن شروع کر دیا۔ اس دوران گزشتہ جھڑپ میں ایک سیکورٹی اہلکار کو معمولی چوٹ آئی ہے۔ حکام کے مطابق بدھ کی شام بلّاور کے کہوگ گاؤں میں جموں و کشمیر پولیس کی اسپیشل آپریشنز گروپ اور دیگر سیکورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی شروع کی تھی، جس کے دوران دہشت گردوں سے آمنا سامنا ہوا۔
ایک سینئر سیکورٹی افسر نے بتایا کہ رات بھر علاقے کو محاصرے میں رکھنے کے بعد جمعرات کی صبح دوبارہ سرچ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ تلاشی کارروائی دھنو پارولے–کماڈھ نالہ کے علاقے میں جاری ہے، جہاں دہشت گردوں کے چھپے ہونے کی اطلاع ہے۔
حکام نے کہا کہ اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے جبکہ گھنے جنگلات میں چھپے دہشت گردوں کا سراغ لگانے کیلئے فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ جموں زون کے آئی جی پی بھیم سین توتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اندھیرے، گھنی جھاڑیوں اور دشوار گزار علاقے کے باوجود ایس او جی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے اور سی آر پی ایف کی ٹیمیں بھی مشترکہ آپریشن میں شامل ہیں۔ بدھ کی شام یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب سیکورٹی فورسز نے دو سے تین دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن شروع کیا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک سیکورٹی اہلکار کی ٹانگ میں گولی لگنے سے وہ معمولی زخمی ہو گیا، جسے علاج کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق دونوں جانب سے فائرنگ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی، تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا کسی دہشت گرد کو نقصان پہنچا یا نہیں۔ علاقے میں تین مختلف دہشت گرد گروپوں کی نقل و حرکت کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔گزشتہ ایک ماہ سے فوج، بی ایس ایف، پولیس اور سی آر پی ایف سرحدی علاقوں میں مسلسل تلاشی آپریشن چلا رہی ہیں، سرحدی آبادی کی شناختی جانچ کی جا رہی ہے اور سانبہ و کٹھوعہ اضلاع سمیت پنجاب سے ملحقہ علاقوں میں بین الاقوامی سرحد پر گشت میں اضافہ کیا گیا ہے۔
یومِ جمہوریہ کے پیش نظر بی ایس ایف، بارڈر پولیس اور ولیج ڈیفنس گارڈز پر مشتمل کثیر سطحی سیکورٹی نظام کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ضلع کٹھوعہ میں کئی جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن میں اب تک 16 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 11 سیکورٹی اہلکار اور پانچ دہشت گرد شامل ہیں۔ سال 2024 میں سات سیکورٹی اہلکار اور دو دہشت گرد مارے گئے تھے، جبکہ 2023 میں چار سیکورٹی اہلکاروں اور تین دہشت گردوں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ چار شہریوں کی پراسرار اموات بھی ہوئیں، جن میں مقامی لوگوں نے دہشت گردوں کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر