
سرکاری تقرریوں سے لے کر چراگاہ تک، بجٹ سے پہلے مانگا گیا پورا ڈیٹا
بھوپال، 07 جنوری (ہ س)۔
مدھیہ پردیش میں مالی سال 27۔2026 کے بجٹ کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں۔ حکومت نے بجٹ کو زیادہ نتیجہ خیز، شفاف اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق بنانے کے لیے سبھی محکموں سے 15 جنوری تک تفصیلی رپورٹ مانگی ہے۔ اس بار بجٹ میں نئی اسکیموں کا اعلان ہونے کے ساتھ گزشتہ ایک سال میں چلائی گئی اسکیموں کی کامیابیوں، خرچ اور ان کے اثرات کا بھی واضح لیکھا جوکھا پیش کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں سرکاری معلومات کے مطابق محکمہ خزانہ کی ہدایت پر سبھی محکموں کو یہ بتانا ہوگا کہ گزشتہ ایک سال میں ان کی اسکیموں پر کتنا بجٹ خرچ ہوا، اس سے کتنے لوگوں کو بالواسطہ اور بلاواسطہ روزگار ملا اور اسکیموں سے عام عوام کو کیا فائدہ پہنچا۔ حکومت کا فوکس اس بار صرف اعلان نہیں، بلکہ نتائج پر مبنی بجٹ پر رہے گا، تاکہ یہ صاف ہو سکے کہ سرکاری خرچ کا زمین پر کیا اثر پڑا۔
اس سلسلے میں بتایا گیا کہ بجٹ 27-2026 میں جھگی سے پاک شہر، ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کے شعبے میں ہوئی پیش رفت کو خاص اہمیت دی جائے گی۔ محکمہ شہری ترقیات سے جھگی بازآبادکاری، ہاوسنگ اسکیموں اور بنیادی سہولیات پر تفصیلی رپورٹ مانگی گئی ہے۔ وہیں محکمہ ماحولیات کو گرین بیلٹ بڑھانے، آلودگی کنٹرول اور آبی تحفظ سے جڑی اسکیموں کی پیش رفت کی پوری تفصیل دینی ہوگی۔ محکمہ توانائی سے بجلی کی پیداوار، قابل تجدید توانائی، سولر اور ونڈ انرجی پروجیکٹس پر ہوئی پیش رفت کی جانکاری طلب کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی بجٹ کی تیاری میں زمین اور وسائل کے تحفظ پر بھی سختی دکھائی جا رہی ہے۔ سبھی متعلقہ محکموں سے چراگاہ (گوچر بھومی) اور سرکاری زمین پر ہوئی تجاوزات کے معاملات میں کی گئی کارروائی کی رپورٹ مانگی گئی ہے۔ حکومت یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ عوامی املاک کا تحفظ اور شفاف انتظامیہ اس کی ترجیح ہے۔ بجٹ میں اس سمت میں آگے کا ایکشن پلان بھی رکھا جا سکتا ہے۔
حکومت اس بار بجٹ تقریر میں نئی اسکیموں کے ساتھ ساتھ پرانی اسکیموں کی کامیابیوں کو بھی نمایاں طور پر شامل کرے گی۔ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ حکومت نے اپنے وعدوں پر کتنا عمل کیا اور کن شعبوں میں سدھار کی ضرورت ہے۔ اسی سلسلے میں سرکاری تقرریوں، روزگار پیدا کرنے اور مزدور بہبود اسکیموں سے جڑے اعداد و شمار بھی لازمی طور پر مانگے گئے ہیں۔ محکمہ محنت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ مختلف اسکیموں کے ذریعے کتنے مزدوروں کو فائدہ ملا اور ان کی سماجی تحفظ کے لیے کیا قدم اٹھائے گئے۔
اس کے علاوہ، مرکزی حکومت کے وژن ’’وکست بھارت @2047‘‘ کو دھیان میں رکھتے ہوئے ریاستی سطح پر کی جا رہی کوششوں پر بھی سبھی محکموں سے فیڈ بیک مانگا گیا ہے۔ محکموں کو بتانا ہوگا کہ ان کے شعبے میں کون کون سے کام اس طویل مدتی ہدف سے جڑے ہیں اور مستقبل میں کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ بجٹ 27-2026 میں ترقی، روزگار، سماجی انصاف اور ماحولیاتی توازن کے ساتھ 2047 کے ہدف کو دھیان میں رکھ کر پالیسی ساز اعلانات کیے جائیں گے۔
بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دینے کے لیے 19 سے 29 جنوری کے درمیان محکمانہ میٹنگیں منعقد کی جائیں گی۔ ان میٹنگوں میں محکمہ خزانہ اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران شامل ہوں گے۔ یہاں اسکیموں کی افادیت، بجٹ کی ضرورت اور ترجیحات پر تفصیل سے تبادلہ خیال ہوگا۔ اس کے بعد حتمی بجٹ دستاویز تیار کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن