
حیدرآباد، 7۔ جنوری (ہ س)۔ حیدرآباد میں خواتین کی سلامتی سے جڑا ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک انجینئرنگ کی طالبہ نے کالج سے گھر جانے کے لیے راپیڈو رائیڈ بک کی،لیکن رائیڈ ختم ہونے کے بعد مسئلہ شروع ہوا۔ ڈرائیور نے طالبہ کا موبائل نمبر محفوظ کرلیا اور بعد میں اسے بار بار فون کالز اور نازیبا پیغامات کے ذریعے ہراساں کرنے لگا۔ طالبہ نے ہمت دکھاتے ہوئے اس معاملے کی شکایت حیدرآباد شی ٹیمس سے کی۔ شکایت ملتے ہی شی ٹیمس نے فوری کارروائی کی اور راپیڈو ڈرائیور کو ٹریس کرکے حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں اسے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ملزم کو سات دن کی سادہ قید اور 250 روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ پولیس حکام کے مطابق، یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے۔ دسمبر 2025 کے دوران حیدرآباد شی ٹیمس کو مجموعی طور پر 98 شکایات موصول ہوئیں، جبکہ ملکاجگری علاقے میں 16 نومبر سے 31 دسمبر 2025 کے درمیان 229 شکایات درج کی گئیں، جو خواتین کے خلاف ہراسانی کے بڑھتے ہوئے معاملات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ایک اور معاملے میں، شی ٹیمس نے کے سمنتھ سائی کمار (35 سال) کو سوشل میڈیا پر نازیبا پیغامات بھیجنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ اسے سیکشن 292 بی این ایس اور سیکشن 70(c) سی پی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے عدالت نے چار دن کی سادہ قید اور 250 روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ حیدرآباد شی ٹیمس نے واضح کیا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے، ذاتی معلومات کے غلط استعمال اور آن لائن بدسلوکی جیسے جرائم کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پولیس نے خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی ہراسانی کی صورت میں بلا خوف و جھجھک شکایت درج کرائیں، تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔یہ واقعہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ راپیڈو رائیڈ کے بعد ہراسانی ہو یا سوشل میڈیا پر بدسلوکی، قانون حرکت میں آئے گااور قصورواروں کو سزا ضرور ملے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق