
ایم پی میں زمینی سطح پر تنظیم مضبوط کرنے اتری کانگریس، پوری ریاست میں گاوں چلو ابھیان تیز
بھوپال، 07 جنوری (ہ س)۔ ریاست میں کانگریس پارٹی کا ’گاؤں چلو ابھیان‘ پورے زور و شور سے جاری ہے۔ اس مہم کے ذریعے کانگریس نے دیہی سطح پر تنظیم کو مضبوط کرنے اور عام عوام سے براہ راست رابطہ قائم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پارٹی کی یہ مہم 20 فروری تک چلے گی، جس کے تحت ریاست کی ہزاروں گرام پنچایتوں میں تنظیمی ڈھانچہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔ کانگریس اسے آئندہ انتخابی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ عوامی تحریک کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔
کانگریس نے اس مہم کے تحت ریاست کی تقریباً 26 ہزار گرام پنچایتوں میں پہلی بار باقاعدہ گرام پنچایت کمیٹیوں کی تشکیل کا پرعزم ہدف طے کیا ہے۔ پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ جب تک تنظیم گاوں گاوں تک مضبوط نہیں ہوگی، تب تک عوامی مسائل کو موثر طریقے سے اٹھانا ممکن نہیں ہے۔ اسی سوچ کے تحت کانگریس نے یہ مہم شروع کی ہے، جس میں تنظیم سازی کے ساتھ ساتھ عوامی رابطے پر بھی خاص فوکس کیا جا رہا ہے۔
’گاؤں چلو ابھیان‘ کے تحت کانگریس کے سینئر اور تجربہ کار لیڈر مسلسل دیہی علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے عہدیداران، سابق وزراء، اراکین اسمبلی، سابق اراکین اسمبلی اور ضلع سطح کے لیڈر الگ الگ گاوں میں پہنچ کر دیہی عوام سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ان دوروں کے دوران پارٹی لیڈر گاوں والوں کے مسائل سن رہے ہیں اور انہیں کانگریس کی پالیسیوں اور نظریات سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مہم کے دوران گرام پنچایت سطح پر صدر، نائب صدر، سکریٹری اور دیگر عہدیداروں کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔ ان کمیٹیوں میں مقامی نوجوانوں، خواتین، کسانوں، مزدوروں اور سماجی کارکنوں کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ تنظیم میں ہر زمرے کی حصہ داری یقینی ہو سکے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس سے کانگریس کو گاوں کے حقیقی مسائل کی جانکاری ملے گی اور انہیں تحریک اور اسمبلی کے پلیٹ فارم پر مضبوطی سے اٹھایا جا سکے گا۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں دیہی علاقوں میں مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل، کھاد بیج کی قلت، بجلی پانی اور صحت سہولیات کی کمی جیسے مسائل سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ ’گاؤں چلو ابھیان‘ کے ذریعے پارٹی ان سبھی مسائل کو سیدھے عوام کے بیچ لے جا کر حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہی ہے۔ کانگریس لیڈر گاؤں والوں کو یہ بھی بتا رہے ہیں کہ کانگریس حکومت کے دور اقتدار میں چلائی گئی اسکیموں سے انہیں کیا فائدہ ملا تھا۔
اس مہم کا ایک اہم مقصد نوجوانوں اور نئے کارکنوں کو تنظیم سے جوڑنا بھی ہے۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ گرام پنچایت سطح پر مضبوط کمیٹی بننے سے نوجوانوں کو قیادت کا موقع ملے گا اور تنظیم کو نئی توانائی حاصل ہوگی۔ خواتین کانگریس اور یوتھ کانگریس کو بھی اس مہم میں سرگرم کردار دیا گیا ہے، تاکہ سماجی توازن اور حصہ داری بنی رہے۔
ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے ’گاؤں چلو ابھیان‘ کو پارٹی کی ریڑھ مضبوط کرنے والی مہم بتایا اور کہا کہ 20 فروری کے بعد بھی تشکیل شدہ گرام پنچایت کمیٹیوں کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور سرگرم کارکنوں کو آگے ذمہ داریاں دی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی ہر پنچایت کے مسائل کی دستاویز تیار کر کے انہیں ضلع اور ریاستی سطح تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’’کانگریس کا ’گاوں چلو ابھیان‘ صرف تنظیم کی توسیع نہیں، بلکہ عام دیہی عوام کے درد اور مسائل کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔ جب تک تنظیم گاوں گاوں تک مضبوط نہیں ہوگی، تب تک جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ ہم 26 ہزار گرام پنچایتوں میں پہلی بار کمیٹیاں بنا کر عوام کی آواز کو مضبوط پلیٹ فارم دیں گے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار نے بی جے پی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا، ’’ریاست کی بی جے پی حکومت نے گاوں، کسان اور غریب کو پوری طرح نظر انداز کیا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور کسانوں کے مسائل عروج پر ہیں۔ ’گاوں چلو ابھیان‘ کے ذریعے کانگریس ان مسائل کو سیدھے عوام کے بیچ لے جا کر حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرے گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا ہر کارکن گاؤں میں جا کر عوام کے ساتھ کھڑا ہوگا اور ان کے حق کی لڑائی لڑے گا۔ وہیں، یوتھ کانگریس اور خواتین کانگریس کی ریاستی اکائیوں نے بھی مہم کو لے کر جوش و خروش کا اظہار کیا۔ لیڈروں نے کہا ہے کہ دیہی نوجوانوں اور خواتین کو تنظیم سے جوڑنا ہماری ترجیح ہے۔ ’گاوں چلو ابھیان‘ سے گاوں میں نئی توانائی اور نئی سوچ پیدا ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن