کرشنا راؤ کا کے ٹی آر کے بیانات پر سخت ردِعمل، راہل گاندھی کو ایماندار قائد قرار دیا
حیدرآباد، 7۔ جنوری (ہ س)۔ تلنگانہ کے ریاستی وزیر جوپلی کرشنا راؤ نے کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) کی جانب سے راہل گاندھی کے خلاف دیے گئے بیانات پر شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ان بیانات کو غیر ذمہ دارانہ اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہاکہ ورنگل
کرشنا راؤ کا کے ٹی آر کے بیانات پر سخت ردِعمل، راہل گاندھی کو ایماندار قائد قرار دیا


حیدرآباد، 7۔ جنوری (ہ س)۔ تلنگانہ کے ریاستی وزیر جوپلی کرشنا راؤ نے کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) کی جانب سے راہل گاندھی کے خلاف دیے گئے بیانات پر شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ان بیانات کو غیر ذمہ دارانہ اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہاکہ ورنگل فارمرز ڈیکلریشن سے متعلق اس طرح کے تبصرے تلنگانہ میں سیاسی گفتگو کے معیار کو گراتے ہیں۔جوپلی کرشنا راؤ نے کہا کہ کے ٹی آر کا یہ الزام کہ راہل گاندھی نے تلنگانہ کے کسانوں سے جھوٹے وعدے کر کے انہیں دھوکہ دیا، اور ان کے خلاف انتہائی سخت سزا سے متعلق بیان، نہایت نامناسب ہے۔ انہوں نے کے ٹی آر کو ایک موقع پرست لیڈر قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کی زبان جمہوری اقدار کی عکاسی نہیں کرتی۔

وزیر کے مطابق، راہل گاندھی کو نشانہ بنا کر سخت اور توہین آمیز زبان استعمال کرنا نہ صرف غلط ہے بلکہ ان عوام کی بھی بے عزتی ہے جو تعمیری سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کا مطلب ذاتی حملے نہیں ہونا چاہیے۔

راہل گاندھی کا دفاع کرتے ہوئے جوپلی کرشنا راؤ نے انہیں ایک ایماندار اور اصول پسند قائد بتایا، جنہوں نے پارٹی نظم و ضبط اور جمہوری روایات کے لیے وزیر اعظم بننے کا موقع بھی چھوڑ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ راہل گاندھی جیسے لیڈروں کا احترام کیا جانا چاہیے، نہ کہ ان پر توہین آمیز حملے کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس لیڈر نے ہمیشہ عوامی مسائل کو اٹھایا ہے اور کسانوں و پسماندہ طبقات کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان جاری سیاسی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے جوپلی کرشنا راؤ نے یاد دلایا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) نے کئی بڑے وعدے کیے تھے، جن میں ریاست کی تشکیل کے بعد دلت وزیر اعلیٰ بنانے اور ہر دلت خاندان کو تین ایکڑ زمین دینے کے اعلانات شامل تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست بننے کے برسوں بعد بھی یہ وعدے پورے نہیں ہوئے، اس لیے بی آر ایس قیادت کو دوسروں پر تنقید کا اخلاقی حق حاصل نہیں۔

اردو یونیورسٹی کو الاٹ کی گئی زمین کے معاملے پر جوپلی کرشنا راؤ نے کہا کہ ضلع کلکٹر کی جانب سے زمین کے استعمال نہ ہونے پر وضاحت طلب نوٹس جاری کرنا بالکل درست ہے۔ ان کے مطابق یہ معمول کا انتظامی عمل ہے، عوامی زمین کو اسی مقصد کے لیے استعمال ہونا چاہیے جس کے لیے وہ دی گئی ہو، اور احتساب کو یقینی بنانے پر کلکٹر کی ستائش کی جانی چاہیے۔

جوپلی کرشنا راؤ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب تلنگانہ میں کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ راہل گاندھی کے دفاع اور کے ٹی آر کے بیانات کا جواب دے کر وزیر نے واضح پیغام دیا ہے کہ ذاتی حملوں کی سخت مخالفت کی جائے گی۔کانگریس بمقابلہ بی آر ایس کی اس بحث میں جوپلی کرشنا راؤ نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایماندار قیادت اور جوابدہی، سنسنی خیز بیانات سے کہیں زیادہ اہم ہیں، اور تلنگانہ کے عوام لیڈروں کو ان کے الفاظ نہیں بلکہ ان کے کام کی بنیاد پر پرکھیں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande