
کویتا کے کانگریس میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں، سیاسی ہلچل تیزحیدرآباد، 06 جنوری (ہ س)۔ سینئر کانگریس لیڈرمالریڈی رنگا ریڈی کے حالیہ بیانات نے تلنگانہ کی سیاست میں نئی بحث چھیڑدی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایم ایل سی کے کویتا کے تعلق سے دلچسپ تبصرہ کیا اورکہا کہ اگرکویتا کانگریس پارٹی میں شامل ہوجائیں تواس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔ مالریڈی رنگا ریڈی نے کہا کہ سیاست میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دانم ناگیندر اور کاڈیئم سری ہری کے کانگریس میں شامل ہونے کی بھی انہیں توقع نہیں تھی، لیکن آخرکاروہ پارٹی میں آ گئے۔ اسی تناظرمیں انہوں نے کہا کہ کویتا کے کانگریس میں آنے کے امکانات کوبھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی دوران مالریڈی رنگا ریڈی نے اپنی ہی پارٹی کو ایک نرم مگر واضح پیغام بھی دیا۔ وہ طویل عرصے سے حیدرآباد کوٹے سے وزارت کے خواہاں ہیں اوراس مطالبہ کو وہ کئی بار اٹھا چکے ہیں۔ اس بار بھی انہوں نے اشاروں میں کہا کہ اگر انہیں وزیر کا عہدہ نہ دیا گیا تو اس کا نقصان پارٹی کو ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً دو کروڑ آبادی والے ضلع کو اب تک کابینہ میں مناسب نمائندگی نہیں ملی، جس پر پارٹی قیادت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ مالریڈی رنگا ریڈی نے رنگا ریڈی ضلع کے نام کی تبدیلی پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ضلع کا نام تبدیل کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور اس سلسلے میں گردش کرنے والی باتوں کو محض قیاس آرائی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع میں جتنی چاہیں میونسپلٹیز بنائی جا سکتی ہیں، لیکن اس کی شناخت اور چہرہ تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ رنگا ریڈی ضلع کی اصل پہچان کو برقرار رکھے۔انہوں نے مستقبل شہر کے اطراف بڑھتی ہوئی رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہاں زمینوں کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ اپنی زمین فروخت کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ مالریڈی رنگا ریڈی نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں انہیں اس لیے انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے فارماسیوٹیکل منصوبوں کی مخالفت کی تھی۔ ان کے مطابق اگر حکومت کے منصوبے کے مطابق فارما سٹی قائم ہو جاتی تو تقریباً پچاس کلومیٹر کے دائرے میں آلودگی پھیل جاتی۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق