
حیدرآباد , 06 جنوری (ہ س)۔ آندھرا پردیش حکومت نے تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کے اس دعوے کوحقائق کے منافی اورگمراہ کن قرار دے کر مسترد کردیا ہے کہ آندھرا کی مخلوط حکومت نے تلنگانہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے رائل سیما لفٹ پروجیکٹ کوروک دیا ہے۔ ریونت ریڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے ان کی درخواست اوراحترام میں اس پروجیکٹ کا کام روکا ہے تاہم اے پی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ حکام نے وضاحت کی کہ اس پروجیکٹ کی معطلی کا موجودہ حکومت کے سیاسی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔حکومت کے مطابق سابق وزیراعلیٰ وائی ایس جگن موہن ریڈی کے دور اقتدارمیں یہ منصوبہ ضروری قانونی اورماحولیاتی منظوریوں کے بغیرشروع کیاگیا تھا۔ اگرچہ اس وقت بڑے پیمانہ پر یہ پروپگنڈہ کیا گیا تھا کہ رائل سیما کوروزانہ 3 ٹی ایم سی پانی فراہم کیا جائے گا لیکن حقیقت میں منظوری کے بغیرہی کام شروع کردیا گیا تھا۔آندھرا پردیش حکومت نے یاد دلایا کہ تلنگانہ کی سابقہ حکومت نے ہی اس پروجیکٹ کوعدالتوں،مرکزاورنیشنل گرین ٹربیونل میں چیلنج کیا تھا۔ ان شکایات کے بعد حکام نے معاملہ کا جائزہ لیا اورقانونی اجازت ناموں کی عدم موجودگی کی وجہ سے کام روکنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ احکامات 2020 میں ہی جاری ہو چکے تھے جو کہ 2024 میں چندرابابو نائیڈو کے اقتدارسنبھالنے سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اے پی حکومت نے تلنگانہ کی سیاسی قیادت پر الزام لگایا کہ وہ اپنی سیاست کو چندرابابو مرکزبنا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔حکومت نے دوٹوک لفظوں میں واضح کیا کہ آندھرا پردیش اپنے پانی کے حقوق اور رائل سیما کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ جلد ہی اس پروجیکٹ کی شروعات، منظوریوں کی کمی اورکام رکنے کی اصل وجوہات سے متعلق تمام دستاویزی شواہد عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق