بھوپال میں منتخب اساتذہ کا مظاہرہ، ٹیچر بھرتی میں عہدے بڑھانے کی مانگ، ڈی پی آئی کا کیا گھیراو
بھوپال، 06 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں ٹیچر بھرتی عمل سے جڑے منتخب امیدواروں نے منگل کو دارالحکومت بھوپال میں مظاہرہ کیا۔ ٹیچر زمرہ-2 اور زمرہ-3 کے منتخب کینڈیڈیٹس بڑی تعداد میں بھوپال کے چنار پارک میں جمع ہوئے اور عہدوں کی تعداد بڑھانے کی مانگ کو
بھوپال میں منتخب اساتذہ کا مظاہرہ


بھوپال، 06 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں ٹیچر بھرتی عمل سے جڑے منتخب امیدواروں نے منگل کو دارالحکومت بھوپال میں مظاہرہ کیا۔ ٹیچر زمرہ-2 اور زمرہ-3 کے منتخب کینڈیڈیٹس بڑی تعداد میں بھوپال کے چنار پارک میں جمع ہوئے اور عہدوں کی تعداد بڑھانے کی مانگ کو لے کر احتجاج کیا۔ ٹیچر بھرتی میں کم عہدے اعلان کیے جانے کی مخالفت میں بھوپال میں 2 ہزار سے زیادہ امیدواروں نے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ایجوکیشن (ڈی پی آئی) کا گھیراو کیا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ہزاروں عہدے خالی ہونے کے باوجود بھرتی میں برائے نام سیٹیں نکالی گئی ہیں، جس سے اہل نوجوان باہر ہو رہے ہیں اور اسکولوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔

مدھیہ پردیش کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی بھاری کمی اور ٹیچر سلیکشن امتحانات میں بے حد کم عہدے اعلان کیے جانے کے خلاف منگل کو بھوپال میں بڑا احتجاج کیا گیا۔ ریاست بھر سے تقریباً 2 ہزار مستقبل کے اساتذہ دارالحکومت پہنچے۔ احتجاج میں شامل امیدوار دوپہر میں چنار پارک پر جمع ہوئے اور ریلی کی شکل میں ڈی پی آئی دفتر پہنچے۔ یہاں انہوں نے ایجوکیشن کمشنر کو میمورنڈم سونپنے اور وزیر تعلیم سے ملاقات کی مانگ کی۔ منتخب کینڈیڈیٹس کا کہنا ہے کہ فی الحال ٹیچر زمرہ-2 اور زمرہ-3 میں کل 13 ہزار عہدوں پر بھرتی کی جا رہی ہے، جبکہ ضرورت کو دیکھتے ہوئے یہ تعداد کم ہے۔ کینڈیڈیٹس نے مانگ کی ہے کہ عہدوں کی تعداد بڑھا کر کم از کم 25 ہزار کی جائے، تاکہ زیادہ منتخب کینڈیڈیٹس کو تقرری مل سکے۔ امیدواروں کا الزام ہے کہ ہزاروں عہدے خالی ہونے کے باوجود بھرتی میں اعلان کردہ سیٹیں اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہو رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف اہل امیدوار باہر ہو رہے ہیں، بلکہ اسکولوں میں پڑھائی کا معیار بھی متاثر ہو رہا ہے۔

مظاہرے کے دوران محکمہ قبائلی امور پر بھی سوال اٹھائے گئے۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ کئی مضامین میں ای ڈبلیو ایس اور او بی سی زمرے کے لیے صفر عہدے دکھائے گئے ہیں، جس سے ان طبقات کے نوجوانوں میں مایوسی اور بے چینی ہے۔ انہوں نے اسے سماجی انصاف اور ریزرویشن کی اصل روح کے خلاف بتایا۔ ٹیچر امیدواروں اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ عہدوں کی کمی کا خمیازہ براہ راست طلبہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کئی اسکولوں میں ایک ٹیچر کو ایک سے زیادہ مضمون پڑھانے پڑ رہے ہیں، جس سے پڑھائی کا معیار اور امتحان کے نتائج متاثر ہو رہے ہیں۔ نئی تعلیمی پالیسی-2020 میں ٹیچر-اسٹوڈنٹ تناسب سدھارنے کی بات کہی گئی ہے، لیکن معقول تقرریوں کے بغیر یہ ہدف ادھورا رہ جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande