
علی گڑھ، 06 جنوری (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات کے چیئرپرسن اور لنگوئسٹک سوسائٹی آف انڈیا کے صدر پروفیسر ایم جے وارثی نے ”بھارتیہ بھاشا پریوار اور لسانی اتحاد“کے موضوع پر ایم پی سنہا سائنس کالج، بی آر امبیڈکر یونیورسٹی، بہار میں بھارتیہ بھاشا سمیتی، وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند کے اشتراک سے منعقدہ قومی سیمینار میں کلیدی خطبہ دیا۔
اپنے خطاب میں پروفیسر وارثی نے ہندوستان کی عالمی شناخت کو لسانی اور تہذیبی تنوع کی سرزمین قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ بھاشا پریوار کا تصور کثیر لسانیت کے ذریعے وحدت پر مبنی ایک تہذیبی وژن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی کثیر لسانی روایت ایک تاریخی وراثت ہے جوکثرت میں وحدت کے جذبے کی عکاس ہے اور ملک کی زبانوں، ادب اور ثقافت پر فخر کا احساس پیدا کرتی ہے۔ پروفیسر وارثی نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی مادری زبان کے علاوہ کم از کم ایک مقامی یا علاقائی زبان ضرور سیکھیں تاکہ لسانی شمولیت اور قومی یکجہتی کو تقویت ملے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ بھاشا پریوار کا وژن قومی تعلیمی پالیسی 2020 سے گہری مطابقت رکھتا ہے، جس کا مقصد ہندوستانی زبانوں کے ساتھ مشترکہ وابستگی کے ذریعے لسانی ہم آہنگی، تخلیقی صلاحیت اور شمولیت کو فروغ دینا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ