
ممبئی،
6 جنوری(ہ س)۔
مہاراشٹر نونرمان سینا اور شیو سینا (یو بی ٹی)
کے درمیان سیاسی اتحاد کے بعد منسے میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ منگل کے
روز اسی ناراضگی کے تحت منسے کے جنرل سیکریٹری راجابھاؤ چوگلے سمیت کئی سینئر عہدیداروں
نے پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا اور شیو سینا (شندے گروپ) میں شمولیت
اختیار کر لی۔
شیو سینا
میں شامل ہونے والوں میں منسے کے ترجمان ہیمنت کامبلے، منسے چتراپٹ سینا کے جنرل سیکریٹری
راہل تپلوندھے، مہاراشٹر نونرمان ودیارتھی سینا کے سندیش شیٹی اور منور شیخ، جنہت
سیل کے ایڈووکیٹ دیواشیش مارک، پرتھمیش باندیکر اور سنتوش یادو شامل ہیں۔ ان سب کو
نائب وزیر اعلیٰ ایک ناتھ شندے نے اپنی جماعت میں شامل کرایا۔ ایک
ناتھ شندے نے اس موقع پر کہا کہ شیو سینا میں شامل ہونے والے تمام رہنماؤں اور
کارکنوں کو مناسب عزت اور ذمہ داری دی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ شمولیت پارٹی کو مزید
مضبوط بنائے گی۔
سیاسی
حلقوں میں یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اسی روز صبح منسے کے سابق
کارپوریٹر سنتوش دھوری بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ اس کے بعد منسے کے دیگر عہدیداروں
کا شندے کی شیو سینا میں جانا منسے کے لیے بڑا جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ تمام
رہنما منسے کے قیام کے وقت سے راج ٹھاکرے کی قیادت میں پارٹی کے ساتھ کام کر رہے
تھے۔ گزشتہ آٹھ برسوں سے بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کے باعث کئی امیدوار انتخاب
لڑنے کی تیاری میں تھے، لیکن شیو سینا (یو بی ٹی) اور منسے کے اتحاد کے بعد دونوں
جماعتوں کے اندر شدید ناراضگی پیدا ہو گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس
اتحاد کا سب سے بڑا نقصان منسے کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
ہندوستھان
سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے