
نئی دہلی، 06 جنوری (ہ س)۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کیمپس میں اشتعال انگیز اور ملک مخالف نعرے لگانے اور اشتعال پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے بائیں بازو کے طلباء گروپوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اے بی وی پی دہلی ریاستی یونٹ نے منگل کو کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے پیر کو دہلی فسادات کے ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کیے جانے کے بعد کچھ طلبہ تنظیموں نے اس کے احتجاج میں پرتشدد نعرے لگائے۔ اے بی وی پی کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کے دوران آئینی اداروں اور منتخب قیادت کے خلاف قابل اعتراض اور انتشار پیدا کرنے والے نعرے لگائے گئے ، جو کہ جمہوری اختلاف رائے کے خلاف ہے۔ تنظیم نے اسے اسی نظریاتی رجحان کا تسلسل قرار دیا جو 2016 سے جاری ہے، جس پر پہلے بھی یونیورسٹی کیمپس میں تنازعات پیدا کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔
اے بی وی پی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ایک آزادانہ اور منصفانہ عدالتی عمل کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، نہ کہ دباؤ یا نعرہ بازی سے ۔ تنظیم نے یہ بھی الزام لگایا کہ جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی بائیں بازو کی قیادت کے ذریعہ استعمال کی گئی زبان عدلیہ کی توہین کو ظاہر کرتی ہے۔
اے بی وی پی دہلی کے ریاستی سکریٹری سارتھک شرما نے کہا کہ کیمپس میں اس طرح کے نعرے بازی ناقابل قبول ہے اور اسے طلبہ کے احتجاج کے طور پر نہیں بلکہ ’’منصوبہ بند انتشار‘‘ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پورے واقعہ کی تحقیقات کرے اور قصورواروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کرے تاکہ کیمپس میں امن اور تعلیمی ماحول کو برقرار رکھا جاسکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد