
حیدرآباد , 06 جنوری (ہ س)۔انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئی ٹی) حیدرآباد نے ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کا ایک جدید اور انقلابی حل پیش کرتے ہوئے ایئرٹیکسی ایجاد کی ہے۔ عام طورپرسڑکوں پرچند منٹوں کا سفر ٹریفک کی وجہ سے گھنٹوں پرمحیط ہوجاتا ہے لیکن مستقبل میں یہ سوپرایئرٹیکسی اس پریشانی کوختم کردے گی۔سنگاریڈی ضلع کے کندی کیمپس میں فیکلٹی ممبردیپک جان میتھیواوران کے ساتھی کیتن چترمتھا نے اس ایئرٹیکسی کا پروٹوٹائپ نمونہ پیش کیا۔ یہ ایئرٹیکسی 120 کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے اوراس کی رفتار60 سے 120 کلومیٹرفی گھنٹہ ہوگی۔اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ مکمل طورپرخودکارہوگی یعنی اس میں پہلے سے پروگرام شدہ نیویگیشن سسٹم موجود ہوگا جس کی وجہ سے مسافروں کواسے چلانے یا کسی قسم کی مداخلت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ محققین کے مطابق یہ ٹکنالوجی نہ صرف عام مسافروں کے لیے وقت کی بچت کرے گی بلکہ ہنگامی طبی خدمات، جیسے انسانی اعضاء کی تیزی سے منتقلی کے لئے بھی سنگ میل ثابت ہوگی جہاں ایک ایک منٹ قیمتی ہوتا ہے۔اگرچہ اس منصوبہ کوابھی ڈائرکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن سے حتمی منظوری ملناباقی ہے لیکن امید ظاہرکی جارہی ہے کہ تمام آزمائشیں مکمل ہونے کے بعد 2026 یا 2027 تک یہ ایئر ٹیکسی تجارتی طور پردستیاب ہوگی۔ وہ دن دور نہیں جب ٹریفک میں پھنسنے کے بجائے لوگ فضاؤں میں اڑ کر اپنی منزل تک پہنچیں گے۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق