سی پی آئی (ایم) نے وینزویلا میں امریکی کاروائی کی مذمت کی
سی پی آئی (ایم) نے وینزویلا میں امریکی کاروائی کی مذمت کی جموں، 06 جنوری (ہ س)۔ سی پی آئی (ایم) کے کارکنوں نے جموں میں وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے سینئر رہنما اور کولگام کے رکنِ اسمبلی محمد یوس
سی پی آئی ایم نے وینزویلا میں امریکی کاروائی کی مذمت کی


سی پی آئی (ایم) نے وینزویلا میں امریکی کاروائی کی مذمت کی

جموں، 06 جنوری (ہ س)۔ سی پی آئی (ایم) کے کارکنوں نے جموں میں وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے سینئر رہنما اور کولگام کے رکنِ اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے مرکز سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر اپنے بیان کا ازسرِنو جائزہ لے اور اس ’کھلی جارحیت‘ کے خلاف سخت پیغام دے۔

احتجاج کے دوران کارکنوں نے نعرے بازی کی اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت والی امریکی انتظامیہ کی کارروائی کی مذمت درج تھی۔ مظاہرین نے ایک پارک میں جمع ہو کر وینزویلا میں امریکی آپریشن کے خلاف پرامن احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے تاریگامی نے کہا کہ امریکہ کی یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک خودمختار لاطینی امریکی ملک کے خلاف کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا اور نہتے عوام کے خلاف طاقت کا استعمال کیا،جو بربریت کے مترادف ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اختیار اور اس بین الاقوامی قانونی نظام کو کمزور کرتے ہیں جو خودمختار ممالک کے خلاف جارحیت کو روکنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

تاریگامی نے کہا کہ اس کارروائی کے بعد دنیا بھر میں ’تاریخی عوامی مظاہرے‘دیکھنے میں آ رہے ہیں اور بھارت میں بھی سول سوسائٹی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے اس جارحیت کے خلاف آواز بلند کی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ اپنی کارروائیوں کو جائز ثابت کرنے کے لیے بے بنیاد بیانیہ گھڑنے اور فوجی طاقت کے ذریعے دیگر ممالک پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا عادی ہے، جو بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا پوری دنیا کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

سی پی آئی (ایم) کے رہنما نے صدر ٹرمپ کے اس مبینہ بیان پر بھی سخت تنقید کی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت نے انہیں خوش کرنے کے لیے روس سے خام تیل کی خرید میں کمی کی۔ تاریگامی نے کہا کہ یہ بیان نہ صرف مضحکہ خیز بلکہ توہین آمیز ہے، کیونکہ بھارت ایک خودمختار ملک ہے اور اپنی پالیسیاں آزادانہ طور پر طے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ اپنی اسٹریٹجک خودمختاری برقرار رکھتا آیا ہے۔

مرکز کے وینزویلا سے متعلق بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے تاریگامی نے کہا کہ حکومت کو اس امریکی جارحیت کی واضح اور دو ٹوک الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی نظریں بھارت پر ہیں اور حکومت کو وضاحت، اعتماد اور جرات کے ساتھ موقف اختیار کرنا چاہیے۔

امریکہ نے عراق کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے جھوٹے دعوؤں کی بنیاد پر تباہ کیا، لیبیا کو جمہوریت کے نام پر عدم استحکام سے دوچار کیا، افغانستان کو انتشار میں چھوڑ دیا اور آج وینزویلا کو منشیات کی اسمگلنگ نہیں بلکہ تیل کے ذخائر کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande