کے بی آر پارک کے اطراف فلائی اوورس اور انڈر پاسس کی تعمیر کو این جی ٹی کی منظوری
حیدرآباد، 4 جنوری (ہ س)۔حیدرآباد کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے ریاستی حکومت نے شہر کے قلب میں واقع کے بی آر پارک کے اطراف فلائی اوورس اورانڈر پاسس کی تعمیر کابڑا فیصلہ کیا ہے۔نیشنل گرین ٹریبیونل نے اس پروجیکٹ کو ہری جھنڈی دکھا دی
کے بی آر پارک کے اطراف فلائی اوورس اور انڈر پاسس کی تعمیر کو این جی ٹی کی منظوری


حیدرآباد، 4 جنوری (ہ س)۔حیدرآباد کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے ریاستی حکومت نے شہر کے قلب میں واقع کے بی آر پارک کے اطراف فلائی اوورس اورانڈر پاسس کی تعمیر کابڑا فیصلہ کیا ہے۔نیشنل گرین ٹریبیونل نے اس پروجیکٹ کو ہری جھنڈی دکھا دی ہے جس کے بعد گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے جنگی بنیادوں پر کام شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اس منصوبہ کا مقصد شہر کے مصروف ترین علاقوں میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانااور شہریوں کو ذہنی اذیت سے نجات دلانا ہے۔کے بی آر پارک کے اطراف ٹریفک کے سنگین مسائل کو دیکھتے ہوئے حکومت نے یہاں دو مرحلوں میں فلائی اوورس اور انڈر پاسس تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جسے دو سال کے اندر مکمل کرنے کا نشانہ رکھا گیا ہے۔ جی ایچ ایم سی کمشنر آر وی کرنن کے مطابق پروجیکٹ کے لئے مٹی کی جانچ کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ٹی ڈی پی آفس سے ایل وی پرساد آئی انسٹی ٹیوٹ تک مٹی کے نمونے لئے جا رہے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل 2017 میں مٹی کی جانچ ہوئی تھی اور اب 8سال بعد دوبارہ یہ عمل مکمل کیا جا رہا ہے تاکہ تعمیرات کو جدید معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔826 کروڑ روپے کی تخمینی لاگت سے بننے والے اس پروجیکٹ میں کئی اہم تعمیرات شامل ہیں۔ کے بی آر پارک کے مین گیٹ سے روڈ نمبر 36 کی جانب 4 لین کا فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا۔ اسی طرح مگدھا جنکشن پر جوبلی ہلز چیک پوسٹ سے کینسر اسپتال جنکشن کی طرف 2 لین کے انڈر پاسس بنائے جائیں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ ان تعمیرات کی تکمیل کے بعد مادھاپور، ہائی ٹیک سٹی، گچی باؤلی، کونڈا پور اور منی کونڈا کی طرف جانے والے مسافروں کو ٹریفک جام سے مستقل نجات ملے گی اور وہ کم وقت میں اپنی منزل تک پہنچ سکیں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande