
ریاستی درجے کی بحالی اور بجٹ اجلاس حکومت کے لئے بڑا چیلنج ہو گا۔عمر عبداللہ
جموں، 07 جنوری (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے خطے کو درپیش اہم چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی، اسمبلی کا آئندہ بجٹ اجلاس اور سیاحتی سیزن حکومت کے لیے بڑے امتحانات ہیں۔ یہاں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نئے سال کو شروع ہوئے ابھی صرف چند دن ہوئے ہیں اور یہ کہنا مشکل ہے کہ آگے کیا حالات سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس پہلگام جیسے حملے، آپریشن سندور اور اگست۔ستمبر میں غیر معمولی بارشوں جیسے حالات کا کسی کو اندازہ نہیں تھا، جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں، تاہم حکومت ہر ممکن صورتحال کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج جموں و کشمیر کا دوبارہ ریاست بننا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسمبلی کا بجٹ اجلاس 2 فروری سے شروع ہو رہا ہے، جس کے لیے بجٹ کی تیاری، ایوان میں پیشی اور منظوری ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ مارچ،اپریل سے شروع ہونے والا سیاحتی سیزن بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اور امید ہے کہ یہ کامیاب رہے گا۔
یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی مستقلی سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس وقت اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ میں کیا شامل ہوگا اور کیا نہیں، اس کا فیصلہ ایوان میں ہی ہوگا۔
بی جے پی کے رکن اسمبلی شام لال شرما کی جانب سے جموں خطے کی علیحدگی اور ریاستی درجہ کے مطالبے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی پہلے ہی لداخ کو الگ کر کے تباہ کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اب جموں کو بھی الگ کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ خطے کو مزید نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کی سیاست ناکام ہو چکی ہے، اسی لیے اب انہیں جموں کے لیے ریاستی درجہ یاد آ رہا ہے، جبکہ 2019 میں ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔ریزرویشن کے معاملے پر سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت اپنا کام مکمل کر چکی ہے۔ کابینہ ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کابینہ سے منظور ہو چکی ہے اور فیصلہ لیفٹیننٹ گورنر کو بھیج دیا گیا ہے، اب اس پر حتمی منظوری دینا ان کی ذمہ داری ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر