
جموں, 04 جنوری (ہ س)۔
جموں و کشمیر میں درجۂ حرارت میں شدید گراوٹ کے پیش نظر گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) جموں نے سرد موسم سے متعلق ایک عوامی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ایڈوائزری کے مطابق سردی سے پیدا ہونے والی چوٹیں اور بیماریاں زیادہ تر معاشرے کے کمزور طبقات کو متاثر کرتی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایسے تقریباً 50 فیصد واقعات 60 برس سے زائد عمر کے افراد میں سامنے آتے ہیں، جبکہ تقریباً 75 فیصد متاثرین مرد ہوتے ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ سردی سے متعلق لگ بھگ 20 فیصد واقعات گھروں کے اندر پیش آتے ہیں۔
میڈیکل ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید سردی کے دوران ہائپوتھرمیا اور فراسٹ بائٹ سب سے عام اور خطرناک مسائل ہیں۔ ہائپوتھرمیا اس وقت لاحق ہوتا ہے جب جسم کا درجۂ حرارت 95 ڈگری فارن ہائیٹ سے نیچے چلا جائے، جبکہ فراسٹ بائٹ منفی 20 ڈگری فارن ہائیٹ کی ہوا میں صرف 30 منٹ کے اندر جسم کے ٹشوز کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ایڈوائزری میں دیگر خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جن میں حرارتی آلات کے غلط استعمال کے باعث کاربن مونو آکسائیڈ زہر، بجلی کی بندش، پانی کی پائپ لائنوں کا جم جانا اور شدید موسم میں گاڑیوں کی خرابی شامل ہیں۔
احتیاطی اقدامات کے طور پر شہریوں کو سخت سردی کے اوقات میں گھروں کے اندر رہنے، بزرگوں اور دیگر کمزور افراد کا باقاعدہ حال معلوم کرنے، پانی کی پائپ لائنوں کو محفوظ بنانے اور ہنگامی حرارتی انتظامات تیار رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ آگ لگنے کے خدشے کے پیش نظر موم بتیوں کے استعمال سے گریز کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
شہریوں کو اپنی گاڑیوں میں موسمِ سرما کے لیے ایمرجنسی کِٹ رکھنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے، جس میں کمبل، ٹارچ، خشک خوراک، پینے کا پانی اور مکمل چارج شدہ موبائل فون شامل ہو۔ اس کے علاوہ گرم کپڑوں کی تہہ دار پوشاک، سر اور منہ کو ڈھانپنے اور دستانوں کے بجائے مِٹن استعمال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔جی ایم سی جموں کے ڈاکٹروں نے اس بات پر زور دیا کہ ہائپوتھرمیا اور فراسٹ بائٹ سے بچاؤ، علاج کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے، اور عوام سے اپیل کی کہ جاری سرد لہر کے دوران حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر