
کولکاتا، 4 جنوری (ہ س)۔ بنگال بی جے پی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں ریاست میں ممتا بنرجی حکومت کے خلاف سنگین الزامات لگائے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والے بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) پر ایک بنگلہ دیشی شہری نے مبینہ طور پر حملہ کیا۔
بی جے پی کے مطابق بملی توڈو ہنسدا جو کہ قبائلی برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور بی ایل او کے طور پر کام کرتے ہیں، پر عبدالرحیم غازی نامی شخص نے حملہ کیا۔ پارٹی کا الزام ہے کہ بملی توڈو ہنسدا کی جانب سے عبدالرحیم غازی کی بنگلہ دیشی شہری کے طور پر شناخت ظاہر کرنے کے بعد یہ حملہ ہوا۔
پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ بملی توڈو ہنسدا نے اپنے اعلیٰ افسران کو مطلع کیا کہ غازی مبینہ طور پر دھوکہ دہی کے ذریعے اپنا نام ووٹر لسٹ میں درج کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ یہ معلوم ہونے پر ملزم نے بی ایل او کو جوتوں سے مارا، جب کہ اس کی بیوی ان کے گھر گئی اور ہنگامہ کیا۔ بنگال بی جے پی نے الزام لگایا کہ ریاست میں قبائلی عوام کو مسلسل ذلت اور تشدد کا سامنا ہے اور ترنمول کانگریس کی حکومت میں ان کی حیثیت میں مسلسل کمی آئی ہے۔ پارٹی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی شہری، جنہیں بی جے پی نے ممتا بنرجی کا’ووٹ بینک‘ قرار دیا، اب قبائلی برادری پر بھی حملہ کر رہے ہیں۔اس واقعہ کو انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بی جے پی نے کہا کہ ممتا بنرجی کے دور حکومت میں مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں کو کھلے عام بنگالیوں پر حملہ کرنے کی کھلی اجازت دی گئی ہے۔یہ خبر لکھے جانے تک بنگال بی جے پی کے اس پوسٹ پر ترنمول کانگریس کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan