
کھاچرود، 02 جنوری (ہ س)۔ ہندوستان میں سب سے زیادہ ساندیپنی اسکولوں کی تعمیر مدھیہ پردیش میں ہوئی ہے، جبکہ کانگریس کے دور حکومت میں اسکول میں کلاس میں بیٹھنے کے لیے ٹاٹ پٹی تک نہیں ملتی تھی۔ یہ بات ریاست کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے جمعہ کو مدھیہ پردیش کے کھاچرود میں ایک جلسے میں کہی۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کھاچرود میں 32 کروڑ 40 لاکھ کی لاگت سے ساندیپنی اسکول کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے 78.61 کروڑ کے علیحدہ علیحدہ تعمیراتی کاموں کا افتتاح بھی ایک ہی اسٹیج سے کیا۔ جس میں اسکول، نئی کرشی اپج منڈی، تحصیل دفتر، جن پد پنچایت بھون کا افتتاح شامل ہے۔ سی ایم نے کہا کہ کانگریس کو شرم آنی چاہیے، کانگریس ہمیشہ ہائے رے اقتدار کرتی ہے۔ نریندر مودی حکومت نے جو ترقی کی ہے وہ اس سے قبل کبھی نہیں ہوئی۔
نریندر مودی کے زمانے میں بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کو گیتا جی پیش کی جاتی ہے۔ کانگریس کے دور حکومت میں سب سے زیادہ فسادات ہوئے ہیں۔ نریندر مودی حکومت کی طاقت تھی کہ رام مندر کی تعمیر کے وقت ملک میں کہیں بھی فسادات نہیں ہوئے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اجین-جاورہ فورلین کی تعمیر میں کسانوں کا خیال رکھا جائے گا۔ چھوٹے چھوٹے گاوں میں ہائی وے پر کنیکٹیوٹی دیں گے۔ کھاچرود میں کھیل اسٹیڈیم، فوڈ پارک بنایا جائے گا جس میں سبھی سبزیوں کی خریداری ہوگی۔ کھاچرود اور ناگدا کو مدھیہ پردیش حکومت کی میٹروپولیٹن اسکیم میں شامل کیا جائے گا۔ سی ایم نے کھاچرود کی مشہور ریوڑی اور مٹھائی کی تعریف بھی کی۔
کھاچرود کے رکن اسمبلی نے سی ایم کے سامنے مختلف مطالبات رکھے۔ اس موقع پر رکن پارلیمنٹ انل فیروزیا، راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سنت امیش ناتھ، رکن اسمبلی بہادر سنگھ چوہان، گھٹیا سے رکن اسمبلی ستیش مالویہ، جن پد پنچایت صدر پرتھوی راج سنگھ پنوار، جتیندر گہلوت، سلطان سنگھ شیخاوت وغیرہ اسٹیج پر موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن