
مَہالکشمی اسکیم میں بڑی تبدیلی، خواتین کو بس میں سفرکےلئے نئے کارڈ جاریحیدرآباد، 2 جنوری (ہ س)۔ تلنگانہ حکومت خواتین کے لیے مفت بس سفرکی مَہالکشمی اسکیم میں بڑی تبدیلیاں کرنے جارہی ہے۔ اس اقدام کامقصد ٹیکنالوجی کے استعمال، شفافیت اور سہولت کو مزید بہتر بنانا ہے۔حکومت ریاست بھر کی خواتین کو اسمارٹ کارڈز فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جنہیں باضابطہ طور پر کامن موبیلیٹی کارڈ کہا جائے گا۔ اس فیصلے سے مَہالکشمی اسکیم کو ایک جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک ٹرانسپورٹ ماڈل میں تبدیل کرنے کی امید ہے، جس سے خواتین کے روزمرہ سفر میں آسانی ہوگی اور ایک وسیع ڈیجیٹل نظام کی بنیاد پڑے گی۔نئے منصوبے کے تحت مَہالکشمی اسکیم سے مستفید ہونے والی خواتین کو اسمارٹ کارڈ فراہم کیے جائیں گے، جو ان کی ڈیجیٹل سفری شناخت کے طور پر کام کریں گے۔ اب بس میں سفر کے دوران آدھار کارڈ ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہر سفر ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ ہوگا، جس سے شفافیت بڑھے گی۔ آر ٹی سی بسوں میں سوار ہونا زیادہ تیز اور آسان ہوگا، جبکہ یہ کارڈ ایک ملٹی پرپز ڈیجیٹل والیٹ کے طور پر بھی استعمال کیاجا سکے گا۔ تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے عہدیداران پبلک ٹرانسپورٹ نظام میں جدید ٹیکنالوجی شامل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے سینٹر فار گڈ گورننس کے ساتھ کامن موبیلیٹی کارڈز کی تیاری اور نفاذ کے لیے پہلے ہی معاہدہ کر لیا ہے۔ یہ کارڈ صرف مفت بس سفر تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ دیگر سہولتوں کے لیے بھی استعمال کیے جا سکیں گے۔ کامن موبیلیٹی کارڈ کے ذریعے خواتین مَہالکشمی اسکیم کے تحت آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کر سکیں گی۔ اسی کارڈ کو بیلنس شامل کر کے حیدرآباد میٹرو ریل اور ایم ایم ٹی ایس ٹرینوں میں بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ ایک ہی کارڈ کے ذریعے مختلف ٹرانسپورٹ سہولتوں کا استعمال ممکن ہوگا، جس سے روزانہ سفر کرنے والی لاکھوں خواتین کو بڑی راحت ملے گی۔ حکومت مستقبل میں اسی اسمارٹ کارڈ کو دیگر سرکاری اسکیموں سے جوڑنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے، جن میں راشن خدمات، صحت سے متعلق سہولتیں اور دیگر ریاستی فلاحی پروگرام شامل ہیں۔ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو کامن موبیلیٹی کارڈ مختلف سرکاری خدمات تک رسائی کے لیے ایک واحد ڈیجیٹل چابی بن سکتا ہے۔ ڈیجیٹل سفری ڈیٹا کی بنیاد پر آر ٹی سی مصروف راستوں پر مزید بسیں چلانے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ مسافروں کی آمد و رفت کا سائنسی انداز میں تجزیہ کیا جائے گا، جس سے زیادہ بھیڑ والے علاقوں میں بہتر کنیکٹیویٹی اور بسوں کی فریکوئنسی ممکن ہو سکے گی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس ڈیٹا پر مبنی نظام سے کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور عوام کو کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔اب تک مَہالکشمی اسکیم کے تحت تلنگانہ میں خواتین 255 کروڑ سے زائد مفت بس سفر کر چکی ہیں۔ اس اسکیم کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے حکومت نے آر ٹی سی کو 8,500 کروڑ روپے منظور کیے ہیں۔ حکام کے مطابق اسمارٹ کارڈز کے نفاذ سے مالی شفافیت اور انتظامی منصوبہ بندی مزید مضبوط ہوگی۔
کامن موبیلیٹی کارڈ نظام کو تلنگانہ کے پبلک ٹرانسپورٹ شعبے میں ایک ڈیجیٹل انقلاب کی شروعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مستقبل میں اگر اسے تمام شہریوں تک توسیع دی گئی تو ریاست میں سفر اور فلاحی خدمات تک رسائی کا طریقہ مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق