
ناگپور، 17 جنوری (ہ س)۔ انکم ٹیکس محکمہ نے ناگپور میں سپاری کے کاروبار سے وابستہ تاجروں کے خلاف مبینہ ٹیکس چوری کے معاملے میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے شہر کے مختلف حصوں میں 20 سے زیادہ مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ہفتہ کی صبح سویرے شروع کی گئی۔چھاپوں کے دوران محکمہ کی کئی ٹیمیں ایک ساتھ سرگرم رہیں تاکہ کسی بھی قسم کے مالی ریکارڈ یا ڈیجیٹل شواہد کو تلف یا منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔ ماسکاساتھ اور اٹواڑی جیسے علاقوں میں واقع کاروباری دفاتر اور رہائشی احاطوں پر خصوصی توجہ دی گئی، جہاں سپاری کی تجارت بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس اطلاع کے بعد کی گئی کہ کچھ تاجروں کی جانب سے ظاہر کی گئی آمدنی ان کے اصل کاروباری حجم سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اسی پس منظر میں محکمہ نے مکمل مالی جانچ کا فیصلہ کیا۔انکم ٹیکس حکام اس وقت مالی دستاویزات، بینک کھاتوں کی تفصیلات، الیکٹرانک آلات، نقد لین دین اور دیگر شواہد کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ غیر ظاہر شدہ آمدنی اور ممکنہ قانونی خلاف ورزیوں کا اندازہ لگایا جا سکے۔حکام کے مطابق سپاری کی تجارت میں بڑے پیمانے پر نقد لین دین اور مختلف ریاستوں میں مال کی نقل و حمل شامل ہونے کے باعث یہ شعبہ طویل عرصے سے انکم ٹیکس کی نگرانی میں رہا ہے۔سال 2026 میں ناگپور میں یہ پہلی بڑی انکم ٹیکس کارروائی سمجھی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ 2025 میں بھی محکمہ نے زرعی پیداوار اور متعلقہ اشیاء کی تجارت سے جڑے کئی اداروں پر چھاپے مارے تھے، جہاں غیر ظاہر شدہ آمدنی اور ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کے متعدد معاملات سامنے آئے تھے۔محکمے کے اندرونی ذرائع کے مطابق موجودہ کارروائی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جس کا مقصد ٹیکس نظام کو مضبوط بنانا اور کالے دھن کے استعمال پر قابو پانا ہے۔فی الحال غیر ظاہر شدہ آمدنی کی مالیت کے بارے میں کوئی حتمی اطلاع جاری نہیں کی گئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ تلاشی کا عمل جاری ہے اور مکمل جانچ کے بعد ہی تفصیلی بیان جاری کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے