
نئی دہلی، 10 جنوری (ہ س)۔
دہلی اسمبلی سکریٹریٹ نے ہفتہ کے روز پنجاب پولیس کے تین سینئر افسران کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اسمبلی کے ویڈیو کلپ کا استعمال کرتے ہوئے دہلی کے وزیر قانون کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے سلسلے میں 48 گھنٹوں کے اندر ان سے جواب طلب کیا ہے۔
دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے اسمبلی کے احاطے میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پنجاب پولیس کے ڈائریکٹر جنرل، اسپیشل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (سائبر کرائم) اور جالندھر پولیس کمشنر کو اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی اسمبلی سکریٹریٹ نے جالندھر میں ایف آئی آر کے اندراج کے سلسلے میں ایک باضابطہ نوٹس جاری کیا ہے، جس کا تعلق ایک ویڈیو کلپ سے ہے جس میں مبینہ طور پر اسمبلی کی کارروائی سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ایوان پہلے ہی اس معاملے سے واقف ہے اور ویڈیو کلپ کو فرانزک انویسٹی گیشن اور استحقاق کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔ سپیکر نے اس معاملے میں پنجاب پولیس کے ملوث ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی وضاحت اور ضروری دستاویزات طلب کر لیں۔
اسپیکر نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی سنگین آئینی اہمیت کا حامل ہے اور اس کا براہ راست تعلق ایوان کے وقار، حقوق اور مراعات سے ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ مسئلہ کسی فرد یا سیاسی جماعت تک محدود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس ویڈیو کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے وہ ذاتی ریکارڈنگ نہیں ہے بلکہ ایوان کی سرکاری ریکارڈنگ ہے جو دہلی اسمبلی کی واحد ملکیت ہے۔ ایوان کی جائیداد کا یہ غلط استعمال اور اس بنیاد پر ایک وزیر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا نہ صرف افسوس ناک ہے بلکہ انتہائی سنگین اور قابل مذمت بھی ہے۔
گپتا نے واضح کیا کہ ایوان کی کارروائی کی کوئی بھی ریکارڈنگ ایوان کی واحد ملکیت ہے نہ کہ کسی سیاسی پارٹی، فرد یا بیرونی ایجنسی کی۔ انہوں نے اس اختیار اور بنیاد پر سوال اٹھایا جس کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس پورے واقعہ میں جالندھر پولیس کمشنر کا کردار انتہائی تشویشناک ہے اور ایسا لگتا ہے کہ پہلی نظر میں یہ ایوان کے مراعات کی خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا، ان کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کا واضح مقدمہ بنایا جاتا ہے، جس پر ایوان سنجیدگی سے غور کرے گا۔
سپیکر نے کہا کہ اپوزیشن کے مطالبے کے جواب میں کارروائی مکمل شفافیت اور غیر جانبداری کے ساتھ چلائی جائے گی۔اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ویڈیو کلپ کو فرانزک سائنس لیب کو بھیجا گیا تھا۔ تاہم ایوان کی سرکاری ریکارڈنگ کو ”ڈاکٹرڈ“ قرار دینا بذات خود ایوان کے وقار پر حملہ ہے۔
گپتا نے کہا کہ یہ محض جھوٹا الزام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش معلوم ہوتی ہے جس کا مقصد ایوان کی ساکھ کو داغدار کرنا اور آئینی اداروں کو بدنام کرنا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس سازش میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث پائے جانے والے تمام افراد کو ایوان کی سخت ترین کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسپیکر نے کہا کہ ایوان اپنے حقوق اور مراعات کا تحفظ کرنا جانتا ہے اور ایوان کے وقار، اس کی جائیداد اور آئینی تقاضوں پر کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایوان نے پورے معاملے کا بخوبی نوٹس لیا ہے اور قواعد کے مطابق ضروری کارروائی کو یقینی بنائے گا۔
گپتا نے کہا کہ بار بار طلب کرنے کے باوجود اپوزیشن لیڈر آتشی ایوان میں حاضر نہیں ہوئیں اور آلودگی پر بحث میں حصہ نہیں لیا۔ بحث جاری تھی کہ اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آو¿ٹ کر گئے۔ قائد حزب اختلاف آتشی سے صرف ایک مختصر معافی مانگنے کو کہا گیا، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ورنہ معاملہ وہیں ختم ہو جاتا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ