بحیرہ عرب کے آسمان پر سومناتھ مندر کے ہزار سال کی حیرت انگیز داستان، وزیر اعظم مودی ہوئے مسحور
سومناتھ، 11 جنوری (ہ س)۔ صدیوں سے بار بار ہوئے حملوں کے باوجود سومناتھ مندر ہندوستان کے اٹوٹ جذبے کی علامت کے طور پر آج بھی شان سے کھڑا ہے۔ اسی جذبے کا حیرت انگیز نظارہ ہفتہ کی دیر شام بحیرہ عرب کے اوپر آسمان پر دیکھنے کو ملا۔ تقریباً 3000 سے بھی
ڈرون شو کے دوران بحیرہ عرب کے آسمان پر سومناتھ کی تاریخ کی داستان۔ درمیان میں بیٹھے ہیں وزیر اعظم نریندر مودی۔


ڈرون شو میں ابھری وزیر اعظم نریندر مودی کی شبیہ۔


ڈرون شو دیکھتے وزیر اعظم نریندر مودی۔


سومناتھ، 11 جنوری (ہ س)۔ صدیوں سے بار بار ہوئے حملوں کے باوجود سومناتھ مندر ہندوستان کے اٹوٹ جذبے کی علامت کے طور پر آج بھی شان سے کھڑا ہے۔ اسی جذبے کا حیرت انگیز نظارہ ہفتہ کی دیر شام بحیرہ عرب کے اوپر آسمان پر دیکھنے کو ملا۔ تقریباً 3000 سے بھی زیادہ ڈرونز کے انوکھے امتزاج سے سومناتھ مندر کے ہزار سال کے سفر کو دلچسپ طریقے سے پیش کیا گیا۔ ڈرون شو دیکھ کر پرجوش وزیر اعظم نریندر مودی بھی مسحور ہو گئے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ سے اس دلچسپ شو کی کئی تصویریں شیئر کیں۔

ڈرون شو کے ذریعے بحیرہ عرب کے اوپر آسمان میں روشنی کے انوکھے امتزاج کے ذریعے مختلف تصویری نکات - رنگین اشکال تخلیق کی گئیں۔ آسمان میں ابھرتے روشن مناظر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ ڈرون کے ذریعے آسمان میں بنی سومناتھ مندر، ترشول، اوم، ویر حمیر جی، اہلیا بائی ہولکر، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور نریندر مودی کی تصویریں دکھائی گئیں۔ ہر بدلتی ہوئی تصویر پر لوگوں کی تالیوں کی گڑگڑاہٹ اور ’ہر ہر مہادیو‘ کے نعروں سے مندر کا احاطہ گونج اٹھا۔ اس کے بعد رنگ برنگی آتش بازی نے لوگوں کو مسحور کر دیا۔ اس انوکھے انعقاد سے مقدس سومناتھ دھام میں تہوار جیسا اور خوشی کا ماحول بن گیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل اور ریاست کے کئی وزراء موجود رہے۔

قابل ذکر ہے کہ سومناتھ کی داستان صرف ایک مندر کی نہیں، بلکہ بھارت ماتا کے ان ان گنت سپوتوں کے ناقابل تسخیر حوصلے کی کہانی ہے، جنہوں نے ملک کی ثقافت اور تہذیب کی حفاظت کی۔ ہندوستان کے مغربی ساحل پر گجرات کے سوراشٹر خطے میں بھگوان سومناتھ پہلے جیوتر لنگ کے طور پر براجمان ہیں۔ یہ مقدس سرزمین، جسے پربھاس شیتر کے نام سے جانا جاتا ہے، صرف ایک تیرتھ استھان نہیں بلکہ ملک کی اٹوٹ عقیدت، جدوجہد اور احیاء کی زندہ علامت ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande