رام جنم بھومی کمپلیکس میں سیکورٹی میں نقب لگانے اور نماز پڑھنے کی کوشش کے الزام میں تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا
ایودھیا، 10 جنوری (ہ س)۔ رام جنم بھومی کمپلیکس میں ہفتہ کومبینہ طور پر سیکورٹی میں نقب لگانے اور نماز ادا کرنے کی کوشش کی گئی۔ سیکورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر تین مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس، انٹیلی جنس ایجنس
Ayodhya-ram-mandir-suraksha-


ایودھیا، 10 جنوری (ہ س)۔ رام جنم بھومی کمپلیکس میں ہفتہ کومبینہ طور پر سیکورٹی میں نقب لگانے اور نماز ادا کرنے کی کوشش کی گئی۔ سیکورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر تین مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور اعلیٰ انتظامی حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ مشتبہ افراد سے اچھی طرح پوچھ گچھ کی جارہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ وہ ایودھیا کیوں آئے اور ان کا مقصد کیا تھا؟ تاہم آخری خبریں موصول ہونے تک پولیس ان کے بارے میں واضح معلومات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔

رام جنم بھومی کمپلیکس میں سخت حفاظتی انتظامات اس وقت درہم برہم ہوگئے جب تین مشتبہ افراد احاطے میں داخل ہوئے اور نماز پڑھنے کی کوشش کی۔ کمپلیکس کی حفاظت کے لیے تعینات مستعد سیکورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر دو نوجوانوں اور ایک نوجوان خاتون کو حراست میں لے لیا۔ اس کے بعد حکام کو اطلاع دی گئی۔ اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تینوں رام مندر کےگیٹ ڈی-1 سے احاطے میں دیگر عقیدت مندوں کے ساتھ ہی داخل ہوئے۔ اس کے بعد ایک شخص سیتا رسوئی کے پاس نماز پڑھنے بیٹھ گیا۔ جیسے ہی ڈیوٹی پر تعینات سیکورٹی اہلکاروں یہ دیکھا تووہ فوراً حرکت میں آئے اور انہیں فوراً روک کر حراست میں لے لیا۔

عینی شاہدین جو رام مندر درشن کے لئے گئے تھے نے بتایا کہ تینوں کی سرگرمیاں مشکوک لگ رہی تھیں۔روکے جانے پر انہوں نے نعرے بازی بھی شروع کردی جس سے موقع پر کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی۔ اس دوران سیکورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی کے باعث کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔ پولیس حراست میں لیے گئے شخص کی شناخت شوپیاں (کشمیر) کے رہنے والے ابو احمد شیخ کے طور پر کی گئی ہے۔ گرفتار لڑکی کا نام صوفیہ بتایا گیا ہے جب کہ تیسرے نوجوان کی شناخت تاحال واضح نہیں ہوسکی۔ تینوں نے کہا ہے کہ وہ کشمیر کے رہائشی ہیں۔اس سلسلے میں نہ تو رام مندر ٹرسٹ اور نہ ہی پولیس نے ابھی تک سرکاری طور پر اس کی تصدیق کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande