جنگیں ہتھیاروں سے نہیں قوت ارادی سے جیتی جاتی ہیں: اجیت ڈوبھال
نئی دہلی، 10 جنوری (ہ س)۔ قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال نے ہفتہ کو کہا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں اور وسائل سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ قوم کی قوت ارادی اور حوصلے سے جیتی جاتی ہیں۔ ہم سائیکوپیتھ نہیں ہیں جو دشمن کی لاشوں یا کٹے ہوئے اعضاء ک
جنگیں ہتھیاروں سے نہیں قوت ارادی سے جیتی جاتی ہیں: اجیت ڈوبھال


نئی دہلی، 10 جنوری (ہ س)۔

قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال نے ہفتہ کو کہا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں اور وسائل سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ قوم کی قوت ارادی اور حوصلے سے جیتی جاتی ہیں۔ ہم سائیکوپیتھ نہیں ہیں جو دشمن کی لاشوں یا کٹے ہوئے اعضاء کو دیکھ کر اطمینان حاصل کریں۔ جنگیں اس لیے نہیں لڑی جاتیں بلکہ کسی ملک کے حوصلے کو توڑنے اور اسے اپنی شرائط پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے لڑی جاتی ہیں۔

یہاں ڈیولپڈ انڈیا ینگ لیڈرس ڈائیلاگ کی افتتاحی تقریب میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈوبھال نے کہا کہ قوت ارادی قومی طاقت بنتی ہے اور نوجوانوں کو اسے مضبوط کرنا چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ فیصلہ سازی کی صلاحیت بہت ضروری ہے اور کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے دو قدم آگے سوچنا چاہیے۔ خواب سمت فراہم کرتے ہیں لیکن انہیں فیصلوں اور پھر عمل میں بدلنے سے کامیابی ملتی ہے۔

این ایس اے نے کہا کہ وہ ایک محکوم ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے، جب کہ آج کے نوجوان آزاد ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں۔ ہمارے آباو¿ اجداد نے آزادی کے حصول کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں۔ بھگت سنگھ جیسے انقلابیوں کو پھانسی کا سامنا کرنا پڑا، سبھاش چندر بوس نے زندگی بھر جنگ لڑی، اور مہاتما گاندھی نے ستیہ گرہ کا راستہ اختیار کیا۔ ہماری تہذیب ہمیشہ ترقی یافتہ رہی ہے۔ ہم نے کبھی کسی کے مندروں کو تباہ نہیں کیا، کسی پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی لوٹ مار کی۔ تاہم ہم اپنی حفاظت سے لاتعلق رہے ہیں اور یہ ہماری سب سے بڑی کمزوری رہی ہے۔ اگر آنے والی نسلوں نے تاریخ سے سبق نہ سیکھا تو یہ ملک کا سب سے بڑا المیہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہر نوجوان کے اندر آگ ہونی چاہیے۔ لفظ 'انتقام' شاید اچھا نہ لگے، لیکن انتقام بذات خود ایک طاقتور احساس ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ کا بدلہ لینا چاہیے اور اس ملک کو اس مقام پر واپس لانا چاہیے جہاں ہم اپنے حقوق، نظریات اور عقائد کی بنیاد پر ایک عظیم ہندوستان کی تعمیر کر سکیں۔ این ایس اے نے کہا کہ پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ صحیح وقت پر لیے گئے فیصلے ہی ایک لیڈر کو کامیاب بناتے ہیں۔

کھیل اور نوجوانوں کے امور کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھمانڈویہ نے کہا کہ وکست بھارت ینگ لیڈرس ڈائیلاگ مقابلے میں 50 لاکھ سے زیادہ نوجوانوں نے حصہ لیا۔ ان نوجوانوں میں سے تین لاکھ نے دس موضوعات پر مضامین لکھے، جن کا ماہر پروفیسروں نے جائزہ لیا۔ اس کے بعد، 30,000 نوجوانوں کو ریاستی سطح پر پیشکشوں کے لیے منتخب کیا گیا، اور آخر میں، 3000 کو قومی سطح پر مدعو کیا گیا۔ یہ نوجوان ہندوستان کا مستقبل ہیں، اور وزیر اعظم نریندر مودی نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande