ممتا بنرجی نے ایس آئی آر کو لے کر لوگوں کی پریشانیوں پر الیکشن کمیشن کو خط لکھا
کولکاتا، 10 جنوری (ہ س) ۔وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے ایک بار پھر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو خط لکھ کر مغربی بنگال میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے نام پر عام لوگوں کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ایس آئی آر کے عمل پر حساسیت کے فق
ممتا بنرجی نے ایس آئی آر کو لے کر لوگوں کی پریشانیوں پر الیکشن کمیشن کو خط لکھا


کولکاتا، 10 جنوری (ہ س) ۔وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے ایک بار پھر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو خط لکھ کر مغربی بنگال میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے نام پر عام لوگوں کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ایس آئی آر کے عمل پر حساسیت کے فقدان کا الزام لگاتے ہوئے، چیف منسٹر نے کہا کہ الیکشن کمیشن جس طریقہ سے اس عمل کو چلا رہا ہے، اس سے وہ ’حیرت زدہ اور شدید پریشان‘ ہیں۔

اپنے خط میں، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایس آئی آر مکمل طور پر مشین اور عمل پر منحصر ہو چکا ہے، جو انسانی حساسیت کی مکمل کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر سے وابستہ ’دہشت‘ کی وجہ سے اب تک 77 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور اس عمل سے پیدا ہونے والا نفسیاتی دباو¿ خود ان اموات کا ذمہ دار ہے۔ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کی سماعت کے دوران نہ صرف عام لوگ بلکہ نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات پروفیسر امرتیا سین، شاعر جے گوسوامی، اداکار دیپک ادھیکاری (دیو) اور کرکٹر محمد شامی جیسی نامور شخصیات کو بھی مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا۔ انہیں سماعت کے لیے بھی طلب کیا گیا، جس سے کمیشن کے کام کاج پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ شادی شدہ خواتین کو غیر ضروری طور پر نام یا پتے کی تبدیلی پر سماعتوں میں طلب کیا جا رہا ہے جس سے وہ ذہنی اور سماجی پریشانی کا شکار ہیں۔ انہوں نے ایس آئی آر سماعتوں کے لیے تعینات سپروائزرز اور مائیکرو آبزرور کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں مناسب تربیت کے بغیر من مانی طور پر تعینات کیا گیا تھا، اور بہت سے سپروائزر ان کے دائرہ اختیار سے باہر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض معاملات میں عام لوگوں کو بھی ’غدار‘ کا لیبل لگایا جاتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کمیشن کی نام نہاد’منطقی تضادات‘ کی فہرست کو بھی مکمل طور پر ناقابل عمل اور قابل اعتراض قرار دیا۔ انہوں نے ایس آئی آر پورٹل پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ مغربی بنگال میں استعمال ہونے والا پورٹل دوسری ریاستوں سے کیوں مختلف ہے۔ انہوں نے پہلے الزام لگایا تھا کہ یہ پورٹل بی جے پی کے آئی ٹی سیل نے بنایا ہے۔خط میں، ممتا بنرجی نے آنے والے گنگا ساگر میلے کا حوالہ دیا، جہاں ریاستی پولیس فورس کا ایک بڑا حصہ سیکورٹی کے لیے تعینات کیا جائے گا۔ اس لیے عام شہریوں کی حفاظت نام نہاد مبصرین کی حفاظت کے بجائے ریاستی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔وزیر اعلیٰ نے ایک بار پھر مہاجر مزدوروں کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ملازمت کے لیے ریاست سے باہر رہنے والوں کے لیے مناسب متبادل انتظامات نہیں کیے ہیں۔ جب کہ بعض زمروں کے لیے ایک آن لائن نظام قائم کیا گیا ہے، مہاجر کارکنوں کو اس سے باہر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کا رویہ جانبدارانہ نظر آتا ہے اور اس کا مقصد ووٹر لسٹ کو بہتر بنانا نہیں بلکہ نام ہٹانا ہے۔

وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ الیکشن کمیشن عام لوگوں کو درپیش مسائل کے خاتمے کے لیے جلد مناسب اقدامات کرے گا۔ تاہم انہوں نے خط کے آخر میں ہاتھ سے لکھی ہوئی دو سطروں میں مایوسی کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’ہو سکتا ہے ہمیں اس خط کا جواب نہ ملے لیکن یہ میرا فرض تھا کہ میں ان مسائل کو آپ کے ساتھ اٹھاو¿ں‘۔غور طلب ہے کہ ممتا بنرجی پہلے ہی چیف الیکشن کمشنر کو ایس آئی آر کو لے کر تین خط لکھ چکی ہیں۔ اپنے تازہ خط میں انہوں نے عوام کے تحفظات اور خدشات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande