بی جے پی کی گھٹیا نظریاتی سوچ کا شکار نوجوان سوتنتر بھاردواج کی گرفتاری سے سبق لیں: سوربھ بھاردواج
نئی دہلی، 5 ستمبر(ہ س )۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے بی جے پی کی گھٹیا نظریاتی سوچ کا شکار نوجوانوں سے گرفتار نوجوان سوتنتر بھاردواج سے سبق لینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ایک اپیل پر مبنی ویڈیو پیغام جاری کرکے ایسے گمراہ نوجو
بی جے پی کی گھٹیا نظریاتی سوچ کا شکار نوجوان سوتنتر بھاردواج کی گرفتاری سے سبق لیں: سوربھ بھاردواج


نئی دہلی، 5 ستمبر(ہ س )۔

عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے بی جے پی کی گھٹیا نظریاتی سوچ کا شکار نوجوانوں سے گرفتار نوجوان سوتنتر بھاردواج سے سبق لینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ایک اپیل پر مبنی ویڈیو پیغام جاری کرکے ایسے گمراہ نوجوانوں سے کہا کہ بی جے پی کے وزیر کپل مشرا جیسے لوگ، جنہیں آپ اپنا بڑا بھائی سمجھتے ہیں، انہوں نے آپ کی حمایت میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ وہ کبھی آپ کی حمایت میں آگے نہیں آئیں گے اور اب آپ اپنے دفاع کے لیے بالکل اکیلے رہ گئے ہیں۔ یہ لوگ بڑا بھائی بن کر آپ کا استعمال کرتے ہیں اور مصیبت کے وقت آپ کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں، کیونکہ کھل کر ساتھ دینے کی ان میں ہمت نہیں ہے۔ اس لیے ابھی بھی صحیح راستہ اختیار کرنے کا موقع ہے، کیونکہ اقتدار بدلتے ہی یہ بڑے بھائی بیرونِ ملک فرار ہو جائیں گے۔ سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ یہ ویڈیو سوتنتر بھاردواج اور اس جیسے ان بہت سے نوجوانوں کے لیے ہے، جنہیں بی جے پی کی جانب سے گاوں، محلوں اور کالونیوں میں تیار کیا جا رہا ہے۔ آج اس کے وہ بڑے بھائی کپل مشرا، چراغ پاسوان اور نریندر مودی کہاں ہیں؟ سوتنتر بھاردواج نریندر مودی کے پروگراموں میں بھی دیکھا گیا تھا اور اسے باقاعدہ پاس بھی ملتا تھا۔ مگر آج جب پولیس اس کے پیچھے لگی ہوئی ہے تو اس کے یہ تمام بڑے بھائی غائب ہیں۔ آج 20-22 ریاستوں اور مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے، اس کے باوجود بی جے پی والوں میں اتنی بھی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس کے لیے کھڑے ہو جائیں، اس کے حق میں کوئی ویڈیو بنا دیں یا پارلیمنٹ مارگ تھانے آکر اس کے لیے دھرنا دے دیں۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ان نوجوانوں کو سوچنا چاہیے کہ ان کی کیا حیثیت ہے اور جب بی جے پی کی حکومتیں نہیں رہیں گی تو ان جیسے لوگوں کے خلاف قانونی طور پر کیا کارروائی ہوگی؟ وہ لوگ دن رات جو کچھ بھی بول رہے ہیں، وہ سب ریکارڈ ہو رہا ہے۔ اگر وہ اسے اپنے سوشل میڈیا سے ہٹا بھی دیں تو بھی لوگوں نے اس کے آرکائیو بنا کر رکھے ہوئے ہیں۔ جس نفرت میں یہ رہنما انہیں دھکیل رہے ہیں اور چوری چھپے میٹنگیں کرکے جس راستے پر آگے بڑھا رہے ہیں، اس راستے پر ان کے ساتھ کھڑے ہونے کی بی جے پی کے ان رہنماوں کی اپنی حیثیت اور اوقات نہیں ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ایسا اس لیے ہے کیونکہ بی جے پی کے لوگ دل سے جانتے ہیں کہ ان کی یہ نام نہاد نظریاتی سوچ انتہائی گھٹیا ہے، جس کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔ اسی لیے ان میں ہمت نہیں ہوتی کہ امریکہ اور برطانیہ جاکر اس نظریے کے بارے میں بتا سکیں جو وہ بند کمروں میں ان نوجوانوں کو سکھاتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر وہ اپنی حقیقت بتائیں گے تو لوگ انہیں جوتے ماریں گے اور اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ سوربھ بھاردواج نے مختلف محلوں میں پلنے بڑھنے والے اور غنڈہ گردی کرنے والے تمام لوگوں سے کہا کہ ان لوگوں کا صرف استعمال کیا جا رہا ہے۔ جو لوگ بند کمروں میں ان کے بڑے بھائی بنتے ہیں، وہ کبھی ان کے لیے سامنے نہیں آئیں گے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ابھیجیت دیپکے نے جنتر منتر پر ایک احتجاج کیا تھا۔ ان لوگوں نے اسے لاکھ گالیاں دیں اور اس کے خلاف پروپیگنڈا چلایا، لیکن ایک آدھ کو چھوڑ کر اپوزیشن کے تقریباً تمام بڑے رہنما وہاں آئے اور کھل کر اس کی حمایت کی۔ یہ لوگ بھی ایک دو ہفتے پہلے جنتر منتر گئے تھے، لیکن ان کے لیے کون آیا؟ کوئی نہیں آیا اور نہ ہی کوئی آئے گا، کیونکہ وہ بزدل اور گھٹیا ذہنیت کے لوگ ہیں۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی صرف ان نوجوانوں کا استعمال کر رہی ہے اور انہیں بے وقوف بنا رہی ہے، اسی لیے اس کے کسی رہنما میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ کھل کر ان کے ساتھ آئے۔ یہ لوگ پیچھے سے ان کی فنڈنگ ضرور کر دیں گے، کیونکہ انہوں نے بہت پیسہ لوٹا ہے، لیکن نظریاتی اور سماجی طور پر ان کے ساتھ کھڑے ہونے سے ڈریں گے۔ سوربھ بھاردواج نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ نوجوان اس بات کو سمجھ لیتے ہیں تو آج بھی ان کے پاس اپنی سمت تبدیل کرنے کا راستہ موجود ہے۔ ورنہ یہ جان لیں کہ یہ رہنما نہ آج ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور نہ کل کھڑے ہوں گے۔ حکومت بدلتے ہی یہ رہنما خود اپنی بیوی بچوں کو لے کر دوسرے ممالک میں جاکر آباد ہو جائیں گے، کیونکہ ان سب نے اس کے انتظامات کر رکھے ہیں اور ان نوجوانوں کو یہیں چھوڑ دیں گے۔ یہ لوگ غلط راستے پر چل پڑے ہیں اور انہیں کوئی صحیح راستہ دکھانے والا نہیں ہے، اس لیے اس پر خود احتسابی کریں اور اپنا صحیح راستہ خود منتخب کریں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande