
لداخ اپیکس باڈی نے وزارت داخلہ کے ساتھ بات چیت ناکام ہونے کی صورت میں سخت احتجاج کی وارننگ دی
جموں، 05 ستمبر(ہ س)۔
لداخ اپیکس باڈی نے خبردار کیا ہے کہ 9 ستمبر کو نئی دہلی میں وزارت داخلہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اہم مطالبات پر ٹھوس پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں لداخ میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ایل اے بی کے چیئرمین چیرنگ دورجے لکروک نے کہا کہ تنظیم 9 ستمبر کی میٹنگ کا خیرمقدم کرتی ہے، تاہم مذاکرات کے نتائج کی بنیاد پر آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر بات چیت تعمیری اور نتیجہ خیز رہی تو اس کا خیرمقدم کیا جائے گا، بصورت دیگر احتجاج کو مزید شدت دی جائے گی۔ لداخ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس لداخ کے لیے یونین ٹیریٹری سطح پر قانون سازی، آئین کے آرٹیکل 371 کے تحت تحفظات، گزشتہ سال 24 ستمبر کے واقعات کے بعد درج مقدمات واپس لینے، متاثرین کو معاوضہ دینے اور انکوائری کمیشن کی رپورٹ جاری کرنے سمیت مختلف مطالبات کو لے کر تحریک چلا رہے ہیں۔
لکروک نے گزشتہ سال 24 ستمبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے قائم انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق تشدد سے متعلق 80 مقدمات میں سے اب تک صرف 25 مقدمات واپس لیے گئے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ گزشتہ سال کے احتجاج کے دوران ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ کو معاوضہ فراہم کیا جائے اور لداخ کے لوگوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے۔
دریں اثنا ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے کہا کہ ستمبر کو ان افراد کی یاد میں ’شہداء کا مہینہ‘قرار دیا گیا ہے جو گزشتہ سال کے واقعات میں ہلاک، زخمی یا جیل بھیجے گئے تھے۔وانگچک نے بتایا کہ کرگل سے لیہہ تک 10 ستمبر سے شروع ہونے والا مجوزہ پیدل مارچ وزارت داخلہ کے ساتھ 9 ستمبر کو ہونے والی بات چیت کے پیش نظر فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کا نتیجہ تسلی بخش نہ رہا تو مارچ دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایل اے بی کو امید ہے کہ حکومت 9 ستمبر کے اجلاس میں مجوزہ لداخ اسمبلی کے اختیارات اور حقوق سے متعلق تفصیلی مسودہ پیش کرے گی۔ وانگچک نے خبردار کیا کہ اگر لداخ کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو 9 ستمبر کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر