میٹرو ریل پروجیکٹ کیلئے مرکز کے ساتھ جوائنٹ وینچر کی کوششیں
حیدرآباد ،5 ستمبر(ہ س)۔ تلنگانہ حکومت حیدرآباد میٹروریل پروجیکٹ کی عاجلانہ تکمیل کی کوشش کررہی ہے تاہم مرکز کے ساتھ جوائنٹ وینچرکی تیاری میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ وزیراعلی ریونت ریڈی نے شہری ترقی اورریلویز کی وزارتوں کے مرکزی وزراء سے ملاقات کرتے
میٹرو ریل پروجیکٹ کیلئے مرکز کے ساتھ جوائنٹ وینچر کی کوششیں


حیدرآباد ،5 ستمبر(ہ س)۔ تلنگانہ حکومت حیدرآباد میٹروریل پروجیکٹ کی عاجلانہ تکمیل کی کوشش کررہی ہے تاہم مرکز کے ساتھ جوائنٹ وینچرکی تیاری میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ وزیراعلی ریونت ریڈی نے شہری ترقی اورریلویز کی وزارتوں کے مرکزی وزراء سے ملاقات کرتے ہوئے میٹروریل فیس I کو کنٹرول میں لینے اورفیس II کی توسیعی منصوبہ پرعمل آوری میں تعاون کی خواہش کی تھی۔مرکزی حکومت نے پروجیکٹس رپورٹ تیارکرنے کیلئے کنسلٹنٹ کے تقررکی سفارش کی اورجوائنٹ وینچرکے طورپرتکمیل کا بھروسہ دلایا۔ معاہدہ کے مطابق 122.9کیلومیٹرپرمحیط حیدرآباد میٹرو ریل فیس II نیٹ ورک پر 38595 کروڑ کے مصارف سے تکمیل کی جائے گی۔ بتایاجاتا ہے کہ مالیاتی دشواریوں اور بعض انتظامی رکاوٹوں کے پیش نظرجوائنٹ وینچرکوقطعیت دینے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکز کی جانب سے پروجیکٹ کیلئے کئی اہم منظوریوں کا انتظارہے۔ریلوے بورڈکی جانب سے قرض کی فراہمی سے اتفاق کیا گیا لیکن رقم تاحال جاری نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں حکومت خانگی مالیاتی اداروں سے کم شرح سود پر قرض حاصل کرنے کی مساعی کررہی ہے۔ مرکزی وزارت شہری ترقی کی جانب سے تلنگانہ حکومت کو کئی ایک منظوریوں کا انتظار ہے۔ ایس بی آئی،کیاپیٹل مارکٹ کوکنسلسٹنٹ کے طورپرمقررکرنے میں مرکز سے وضاحت نہیں کی گئی۔ بتایا گیا کہ ایس بی آئی کیاپیٹل مارکٹ سے 13500 کروڑ قرض فراہمی کا جائزہ لیاجارہا ہے۔ انڈین ریلوے فینانس کارپوریشن نے13527 کروڑ قرض فراہم کرنے سے اتفاق کیاتھا تاہم وزارت ریلویزنے نئےانفراسٹرکچرپروجیکٹ کیلئے جن شرائط کا تعین کیا، اس کے نتیجہ میں قرض کی اجرائی ممکن نہ ہوسکی۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے وزیرکوئلہ وکانکنی کشن ریڈی کی موجودگی میں وزیراعلی ریونت ریڈی نے منوہر لال کھٹر اور اشونی ویشنو سے ملاقات کی تھی۔۔

۔۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande