چھتیس گڑھ کے بیجاپور میں ملا 3.65 ارب سال پرانا پتھر، بھارت کا اب تک کا سب سے قدیم پتھر قراردیا گیا
بیجاپور، 5 ستمبر (ہ س)۔ چھتیس گڑھ کے بیجاپور ضلع کے جنوب مغربی علاقے میں بھوپال پٹنم کے جنگلاتی علاقے میں زمین کے نیچے سے ملنے والی ایک چٹان کو سائنس دانوں نے تقریباً 3.65 ارب سال پرانا قرار دیا ہے۔ یہ دریافت بھارتی خطے میں اب تک شناخت کیے گئے سب س
چھتیس گڑھ کے بیجاپور میں ملا 3.65 ارب سال پرانا پتھر، بھارت کا اب تک کا سب سے قدیم پتھر قراردیا گیا


بیجاپور، 5 ستمبر (ہ س)۔ چھتیس گڑھ کے بیجاپور ضلع کے جنوب مغربی علاقے میں بھوپال پٹنم کے جنگلاتی علاقے میں زمین کے نیچے سے ملنے والی ایک چٹان کو سائنس دانوں نے تقریباً 3.65 ارب سال پرانا قرار دیا ہے۔ یہ دریافت بھارتی خطے میں اب تک شناخت کیے گئے سب سے قدیم چٹانی آثار کے طور پر سامنے آئی ہے۔

یہ چٹان اس دور کی ہے جب زمین اپنی ابتدائی پرت یعنی کرسٹ کی تشکیل کے مرحلے میں تھی۔ اس دریافت سے بھارت کی ارضیاتی تاریخ کا ریکارڈ تقریباً 15 کروڑ سال مزید پیچھے چلا گیا ہے۔ اس سے پہلے جھارکھنڈ کا سنگھ بھوم بھارت کے قدیم ترین چٹانی علاقے کے طور پر طویل عرصے سے سرفہرست تھا۔ اس سے قبل بستر میں کیے گئے مطالعات میں تقریباً 3.56 ارب سال پرانی چٹانوں کی موجودگی سامنے آئی تھی۔

نئی دریافت نے اس ریکارڈ کو تقریباً 150 ملین یعنی 15 کروڑ سال مزید پیچھے کر دیا ہے۔ محققین کے مطابق بستر کی 3.64 سے 3.60 ارب سال پرانی چٹانیں دنیا میں معلوم قدیم ترین میگمیٹک چارنوکائٹس میں شامل ہوسکتی ہیں۔ یہ دریافت ابتدائی زمین کے ارضیاتی ارتقا کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

یہ دریافت بیجاپور-بھوپال پٹنم کوریڈور کے آس پاس ہوئی ہے۔ یہ علاقہ بستر کریٹن کا حصہ ہے۔ کریٹن براعظمی ارضی پرت کا ایسا قدیم حصہ ہوتا ہے جو کروڑوں سال کے دوران تصادم، دباؤ، دفن ہونے اور پگھلنے جیسے عمل کے باوجود اپنی موجودگی برقرار رکھتا ہے۔

یہ مطالعہ پیٹروکرونولوجیکل کنسٹرینٹس آن ایوارکین سبڈکشن: ایویڈنس فرام دی ساؤتھ ویسٹ بستر کریٹن، انڈیا کے عنوان سے کیا گیا ہے۔ تحقیق میں آئی آئی ایس ای آر بھوپال کے پروفیسر پریتم ناسی پوری اور کوشک ستپتھی کے ساتھ کوریا بیسک سائنس انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر کی ووک یی اور سابق آئی آئی ٹی کھڑگپور کے پروفیسر ابھیجیت بھٹاچاریہ شامل رہے۔

مذکورہ محققین کے مطابق اس علاقے میں تقریباً 3.65 ارب سال پہلے ایک اہم ارضیاتی واقعہ پیش آیا تھا۔ اس کے بعد 3.64 سے 3.60 ارب سال کے درمیان ایک اور مرحلہ آیا، جبکہ 3.44 سے 3.40 ارب سال پہلے چٹانوں کے دوبارہ فعال ہونے یا ازسرنو تشکیل پانے کے شواہد ملے ہیں۔ مطالعے میں دو مختلف اقسام کی چٹانوں کی شناخت کی گئی ہے۔ ان میں سب سے قدیم نیس ہے، جو دھاری دار ساخت والی چٹان ہوتی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اس کی ساخت میں زمین کی ابتدائی تاریخ کے دوران ہونے والی پیچیدہ تبدیلیوں کے شواہد محفوظ ہیں۔

پروفیسر پریتم ناسی پوری کے مطابق یہ چٹان گہرائی میں تشکیل پائی، جہاں اسے گرم ہونے، جزوی طور پر پگھلنے اور دوبارہ تشکیل پانے جیسے عمل سے گزرنا پڑا۔ یہ عمل سطح زمین سے تقریباً 30 سے 50 کلومیٹر نیچے اور ممکنہ طور پر ایک ہزار ڈگری سیلسیس سے زیادہ درجہ حرارت پر ہوا ہوگا۔ کیمیائی اور آاسوٹوپک شواہد سے اشارہ ملتا ہے کہ 3.6 ارب سال سے بھی پہلے زمین پر سبڈکشن سے متعلق عمل فعال ہوسکتے تھے۔ یہ عمل جدید پلیٹ ٹیکٹونکس کے ابتدائی پیش رو تصور کیے جاتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande