سہارنپور کلکٹریٹ کی مسجد پرانتظامیہ نے چلایا بلڈوزر، اکھلیش اور مایاوتی نے کارروائی پر اٹھائے سوالات
سہارنپور، 5 ستمبر (ہ س)۔ اتر پردیش کے سہارنپور ضلع میں ہفتہ کی صبح کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو انتظامیہ نے مسمار کر دیا۔ انتظامیہ کے مطابق سٹی مجسٹریٹ کی عدالت نے مسجد کی تعمیر کو سرکاری زمین پر غیر قانونی قرار دیا تھا۔ کارروائی کے دوران کلکٹریٹ
سہارنپور کلکٹریٹ کی مسجد پرانتظامیہ نے چلایا بلڈوزر، اکھلیش اور مایاوتی نے کارروائی پر اٹھائے سوالات


سہارنپور، 5 ستمبر (ہ س)۔ اتر پردیش کے سہارنپور ضلع میں ہفتہ کی صبح کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو انتظامیہ نے مسمار کر دیا۔ انتظامیہ کے مطابق سٹی مجسٹریٹ کی عدالت نے مسجد کی تعمیر کو سرکاری زمین پر غیر قانونی قرار دیا تھا۔ کارروائی کے دوران کلکٹریٹ کے پانچوں گیٹ سیل کر دیے گئے تھے اور بیرونی افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ موقع پر آر اے ایف سمیت بھاری پولیس فورس تعینات رہی۔ حساس علاقوں میں پولیس نے گشت اور فلیگ مارچ بھی کیا۔

مسجد ہٹانے کی کارروائی ضلع جج کی عدالت کے 2 ستمبر کے حکم کے بعد شروع ہوئی۔ جے سی بی، ڈمپر اور دیگر مشینیں رات ہی میں کلکٹریٹ احاطے میں پہنچا دی گئی تھیں۔ انتظامیہ کے مطابق سٹی مجسٹریٹ کی عدالت نے 16 جولائی 2026 کو مسجد کو سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیر قرار دیتے ہوئے 6.41 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ مسجد فریق نے اس حکم کو ضلع جج کی عدالت میں چیلنج کیا، لیکن 2 ستمبر کو اپیل مسترد کر دی گئی تھی۔

مسجد کو لے کر تنازعہ کے بعد 24 مارچ 2025 کو پی پی ایکٹ کے تحت سٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں عرضی دائر کی گئی تھی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نوٹس، سماعت اور اپیل کی قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی انہدام کی کارروائی کی گئی ہے۔

کارروائی کے دوران کیرانہ سے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کو سہارنپور جانے سے قبل ان کی رہائش گاہ پر روکے جانے کی بات سامنے آئی۔ اقرا حسن نے سوال اٹھایا کہ کیا عوام کی آواز اٹھانا جرم ہے؟

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے اس کارروائی کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے یومِ سیاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی دستاویزات کی بنیاد پر ہے اور معاملے کو ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تک لے جایا جائے گا۔

سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے مسجد ہٹانے کی کارروائی کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ دوسرے مذاہب کا احترام نہیں کرتے، وہ سچے سناتنی نہیں ہو سکتے۔ اکھلیش نے اسے باہمی ہم آہنگی اور سماجی بھائی چارے سے جوڑتے ہوئے حکومت کی کارروائی پر سوال اٹھایا۔

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے بھی سہارنپور میں مسجد منہدم کرنے کے معاملے پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انتظامی کارروائی اور امن و قانون کی صورتحال پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی جانب سے مساجد کو غیر قانونی قرار دینے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے معاملے میں غیر جانب داری اور آئینی عمل کی پابندی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ مایاوتی نے کہا کہ مساجد کو توڑنا درست نہیں ہے۔

سہارنپور رینج کے پولیس ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ابھیشیک سنگھ کے مطابق مسجد کو سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیر قرار دیا گیا تھا۔ اپیل مسترد ہونے کے بعد ہی کارروائی شروع کی گئی۔ تہواروں کے پیش نظر ضلع میں پی اے سی کی 05 کمپنیاں اور آر اے ایف تعینات ہیں۔ حساس علاقوں میں مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande