جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء نے رجسٹرار کے خلاف مبینہ ہتک آمیز پروپیگنڈہ کے معاملے پر پولیس سے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا
سینکڑوں طلبہ نے پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کے خلاف گردش کرنے والے مبینہ ہتک آمیز مواد کی قانونی جانچ کا بھی مطالبہ کیا نئی دہلی،03ستمبر (ہ س)۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بڑی تعداد میں طلبہ نے جامعہ نگر تھانے سے رجوع کرتے ہوئے مسٹر بھوپیندر پال سنگھ
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء نے رجسٹرار کے خلاف مبینہ ہتک آمیز پروپیگنڈہ کے معاملے پر پولیس سے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا


جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء نے رجسٹرار کے خلاف مبینہ ہتک آمیز پروپیگنڈہ کے معاملے پر پولیس سے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا


سینکڑوں طلبہ نے پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کے خلاف گردش کرنے والے مبینہ ہتک آمیز مواد کی قانونی جانچ کا بھی مطالبہ کیا

نئی دہلی،03ستمبر (ہ س)۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بڑی تعداد میں طلبہ نے جامعہ نگر تھانے سے رجوع کرتے ہوئے مسٹر بھوپیندر پال سنگھ چمار اور مسٹر حارث الحق کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ طلبہ کا الزام ہے کہ مذکورہ دونوں افراد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کے خلاف جھوٹا اور ہتک آمیز مواد پھیلا رہے ہیں۔ طلبہ کے مطابق پروفیسر رضوی ایک تجربہ کار ماہر تعلیم ہیں، جنہوں نے تدریس، تحقیق اور انتظامی خدمات کے ایک طویل دور کے بعد جامعہ کے اس قانونی و آئینی عہدے کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔

طلبہ نے پولیس سے براہِ راست رجوع کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف گردش کرنے والے الزامات اور ان کی بنیاد میں موجود مواد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔ مظاہرین میں شامل متعدد طلبہ نے کہا کہ وہ رجسٹرار کے ساتھ ساتھ جامعہ کے وقار اور ساکھ کے تحفظ کے خواہاں ہیں۔

طلبہ کی پولیس سے یہ شکایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس سے قبل ایک سول عدالت بھی رجسٹرار کے حق میں حکم جاری کرچکی ہے۔ عدالت نے متنازع الزامات کی تشہیر اور گردش پر روک لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تقرری اور ترقی جامعہ کے مقررہ قانونی اور آئینی طریقہ کار کے مطابق عمل میں آئی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ حکمِ امتناعی کے باوجود مذکورہ مواد کی مزید تشہیر کی گئی تو توہینِ عدالت کی کارروائی ہوسکتی ہے۔

اس سلسلے میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد تھانے کے باہر جمع ہوئی اور مطالبہ کیا کہ معاملے کو مناسب قانونی اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھایا جائے، نہ کہ اسے بغیر کسی جانچ کے سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ طلبہ نے واضح کیا کہ ان کا مقصد تنقید کو روکنا یا جائز سوالات کی آواز دبانا نہیں، بلکہ یہ مطالبہ ہے کہ سنگین الزامات کو حقیقت تسلیم کرنے سے قبل ان کی بنیادی تصدیق اور قانونی جانچ ضروری ہے، خصوصاً جب الزامات کسی عوامی ذمہ داری کے منصب پر فائز شخص سے متعلق ہوں۔

طلبہ کے مطابق رجسٹرار کے خلاف گردش کرنے والے مواد کو مناسب پس منظر اور سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مواد کے پھیلاو¿ کے ذرائع کا سراغ لگایا جائے، اس میں موجود دعووں کی صداقت کی جانچ کی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ آیا اس عمل میں کسی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔

طلبہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ سے سوال کرنا بذاتِ خود ادارہ جاتی زندگی کا ایک معمول اور صحت مند حصہ ہے۔ ان کے اعتراض کا مرکز جائز تنقید نہیں بلکہ وہ فرق ہے جو قابلِ تصدیق حقائق پر مبنی تنقید اور کسی فرد کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے کیے جانے والے بے بنیاد دعووں کے درمیان موجود ہے۔

طلبہ نے رجسٹرار کے ساتھ اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ غیر مصدقہ الزامات کی مسلسل تشہیر سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مجموعی ساکھ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ ملک کی معروف مرکزی جامعات میں شمار ہونے والی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ایک طویل ادارہ جاتی روایت اور علمی وراثت ہے، جس سے وابستہ رہنے والے طلبہ، اساتذہ اور محققین کی کئی نسلیں آج بھی اس ادارے سے اپنا تعلق محسوس کرتی ہیں۔

مظاہرے میں شامل طلبہ کا کہنا تھا کہ کسی اعلیٰ عہدیدار کے خلاف لگائے جانے والے الزامات اکثر صرف متعلقہ فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے ادارے کے بارے میں عوامی تاثر کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک تعلیمی ادارہ ایسا مقام ہونا چاہیے جہاں اختلافات اور شکایات کو شواہد اور مقررہ طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے، نہ کہ انہیں سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے۔

طلبہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جامعہ کی ساکھ کے تحفظ میں ان کا براہِ راست مفاد وابستہ ہے، کیونکہ کسی تعلیمی ادارے کی شہرت اس سے وابستہ ہر فرد کی پیشہ ورانہ اور علمی شناخت پر اثرانداز ہوتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande