سپریم کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف  اپیل دائر، اگلے ہفتے ہوگی سماعت
نئی دہلی، 29 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دائر عرضی پر اگلے ہفتے سماعت کرے گا۔ آج عرضی گزار راکیش کمار کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل وکاس سنگھ نے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بینچ کے سامنے معاملے کا ذکر ک
Supreme Court


نئی دہلی، 29 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دائر عرضی پر اگلے ہفتے سماعت کرے گا۔ آج عرضی گزار راکیش کمار کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل وکاس سنگھ نے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بینچ کے سامنے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے جلد سماعت کی درخواست کی۔ اس پر عدالت نے اگلے ہفتے سماعت کرنے کا حکم دیا۔ عرضی کے مطابق اختیارات کا مسلسل غلط استعمال ہو رہا ہے اور دو الیکشن کمشنروں کی معلومات یا منظوری کے بغیر ہی ووٹر لسٹ کے عمل میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس سے قبل بھی وکیل شیلندر منی ترپاٹھی نے اس معاملے پر ایک عرضی دائر کی ہے۔ ترپاٹھی کی عرضی میں کہا گیا ہے کہ جو فیصلے لیے گئے اور سافٹ ویئر میں جو تبدیلیاں کی گئیں، ان کے لیے دونوں الیکشن کمشنروں کی رضامندی حاصل نہیں کی گئی۔

عرضی میں گیانیش کمار کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے میں گیانیش کمار نے اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران لیے گئے فیصلوں اور سافٹ ویئر میں کی گئی تبدیلیوں کے لیے دونوں الیکشن کمشنروں کی منظوری نہیں لی گئی۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ خصوصی گہری نظرثانی سے متعلق الیکشن کمیشن کے تمام فیصلوں کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور فارم 6 کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے۔ عرضی میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران تقریباً 13 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے معاملے کی ایس آئی ٹی سے جانچ کرائی جائے۔

عرضی میں گیانیش کمار کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کے علاوہ نائب الیکشن کمشنر منیش گرگ اور الیکشن کمیشن کی آئی ٹی سربراہ سیما کھنہ کے خلاف بھی فوجداری کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ایک اخبار نے خبر شائع کی ہے کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ایس آئی آر کے دوران کم از کم 14 مرتبہ اپنی اعتراضات درج کرائے۔ ان اعتراضات میں ان فیصلوں کی مخالفت کی گئی تھی جو ان کی سفارشات کے خلاف تھے۔ فارم 6 اور ووٹر لسٹ کے انتظام سے متعلق دونوں الیکشن کمشنروں کے اعتراضات کو نظر انداز کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande