
نئی دہلی، 29 ستمبر (ہ س): وزارت داخلہ کے 'فارنرز ڈویژن' میں تعینات ایک سینئر اکاؤنٹنٹ اور وہاں پہلے کام کرنے والے ایک اور اکاؤنٹنٹ کو ایف سی آر اے کے زیر التوا رجسٹریشن کے عمل میں سہولت فراہم کرنے کے بدلے مبینہ طور پر رشوت طلب کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔
حکام نے منگل کو بتایا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے فراہم کردہ مخصوص معلومات کی بنیاد پر، دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر 28 ستمبر کو نئی دہلی میں ان دونوں سرکاری اہلکاروں کو گرفتار کیا۔ ان دونوں نے مبینہ طور پر ایک تنظیم سے رابطہ کیا تھا اور 'فارن کنٹریبیوشن (ریگولیشن) ایکٹ' ( ایف سی آر اے ) کے تحت اس کی زیر التواء رجسٹریشن میں سہولت فراہم کرنے کے لیے غیر قانونی رشوت کا مطالبہ کیا تھا۔
حکام کے مطابق، گرفتار افراد میں سے ایک فی الحال وزارت داخلہ کے فارنرز ڈویژن میں سینئر اکاؤنٹنٹ کے طور پر تعینات ہے، جبکہ دوسرا 'پے اینڈ اکاؤنٹس آفس' میں اکاؤنٹنٹ کے طور پر کام کرتا ہے اور اس سے قبل فارنرز ڈویژن میں خدمات انجام دے چکا ہے۔ ابتدائی پوچھ گچھ سے پتہ چلا ہے کہ دونوں اہلکار مبینہ طور پر کچھ تنظیموں کے ساتھ رابطے میں تھے تاکہ غیر قانونی ادائیگیوں کے بدلے ان کی ایف سی آر اے رجسٹریشن اور تجدید میں مدد کر سکیں۔ اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ ایف سی آر اے سے متعلق تمام خدمات ایف سی آر اے پورٹل کے ذریعے آن لائن دستیاب ہیں اور کسی بھی درمیانی شخص، ایجنٹ یا فرد کو ایف سی آر اے کی خدمات میں مدد کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد