ہنگامی صورتِ حال میں ’اڑان‘ سے علاج تک، مدھیہ پردیش میں ’پی ایم شری ایئر ایمبولینس‘ بنی سنجیونی
ریاست سے باہر بھی علاج کی راہ آسان، 170 سے زائد مریضوں کو ملا علاج، مئی 2024 میں شروع ہوئی سروس بنی زندگی بچانے کا ذریعہ بھوپال، 28 ستمبر (ہ س)۔ جب زندگی بچانے کے لیے ہر سیکنڈ قیمتی ہو، ایسے میں آسمان کی راہ بھی زندگی کی امید بن جاتی ہے۔ مدھیہ پ
ہنگامی صورتِ حال میں ’اڑان‘ سے علاج تک، مدھیہ پردیش میں ’پی ایم شری ایئر ایمبولینس‘ بنی سنجیونی


ریاست سے باہر بھی علاج کی راہ آسان، 170 سے زائد مریضوں کو ملا علاج، مئی 2024 میں شروع ہوئی سروس بنی زندگی بچانے کا ذریعہ

بھوپال، 28 ستمبر (ہ س)۔

جب زندگی بچانے کے لیے ہر سیکنڈ قیمتی ہو، ایسے میں آسمان کی راہ بھی زندگی کی امید بن جاتی ہے۔ مدھیہ پردیش حکومت کی ’پی ایم شری ایئر ایمبولینس سروس‘ سنگین مریضوں کے لیے ایسی ہی امید کی پرواز بن کر سامنے آئی ہے۔

مئی 2024 میں شروع ہونے والی اس سروس کے ذریعے اب تک 170 سے زائد مریضوں کو بروقت اعلیٰ سطح کے طبی علاج تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا گیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر مریضوں کو نہ صرف ریاست کے اندر بلکہ دیگر ریاستوں کے ماہر اسپتالوں تک بھی ایئر ایمبولینس کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔ آیوشمان کارڈ رکھنے والے مستحق مریضوں کے لیے یہ سہولت مفت دستیاب ہے۔

اس سروس کی افادیت کی تازہ مثال حال ہی میں سامنے آئی، جب اجین میں زیرِ علاج ایک دن کی نومولود بچی کو دل کی سنگین بیماری کے باعث احمد آباد کے ماہر اسپتال پہنچایا گیا۔ اس سے قبل مئی میں اجین ضلع کے پانچ ماہ کے بچے یَتھارتھ سنگھ رناوت کو دل کے علاج کے لیے بنگلورو بھیجا گیا تھا۔ دونوں معاملات میں ریاست کی ایئر ایمبولینس سروس کے ذریعے ایسے طبی مراکز تک رسائی ممکن ہوئی، جہاں ماہر علاج کی سہولت دستیاب تھی۔

گزشتہ دنوں مدھیہ پردیش میں فضائی خدمات کی توسیع کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے ’پی ایم شری ایئر ایمبولینس سروس‘ کی تفصیلات بتائی تھیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ریاست میں شروع کی گئی اس سروس سے اب تک 170 سے زائد سنگین مریض مستفید ہو چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی بتایا تھا کہ آیوشمان کارڈ رکھنے والے مستحق افراد کے لیے یہ سروس مفت فراہم کی جا رہی ہے۔

اس سروس کا مقصد ایسے مریضوں کو تیزی سے طبی مراکز تک پہنچانا ہے، جنہیں سنگین بیماری، حادثے یا کسی اور ہنگامی صورتِ حال میں اعلیٰ سطح کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضرورت کے مطابق مریضوں کو ریاست کے اندر یا بیرونِ ریاست ماہر طبی مراکز تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

مئی 2024 میں ریاست میں شروع ہوئی تھی سروس

مدھیہ پردیش حکومت نے 29 مئی 2024 سے پی ایم شری ایئر ایمبولینس سروس شروع کی تھی۔ ابتدا میں اس کے تحت ایک ہیلی کاپٹر اور ایک فکسڈ وِنگ ایئر ایمبولینس کا انتظام کیا گیا تھا۔ دونوں ایئر ایمبولینسز میں تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی سہولت فراہم کرنے کا انتظام تھا۔

حکومت کے اقتصادی سروے کے مطابق فروری 2025 تک اس سروس کے ذریعے 50 مریضوں کو فضائی نقل و حمل کی سہولت فراہم کی جا چکی تھی، جن میں سے 44 مریضوں کو مفت فضائی نقل و حمل کی سہولت ملی تھی۔ اس کے بعد سروس کا استعمال بڑھتا گیا اور اگست 2026 تک مستفید ہونے والے مریضوں کی تعداد 170 سے تجاوز کر گئی۔ فی الحال اس سروس کا آپریشن اولافلائی ایوی ایشن کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔

ایک دن کی نومولود بچی کو اجین سے احمد آباد پہنچایا گیا

25 ستمبر 2026 کو اجین میں پی ایم شری ایئر ایمبولینس سروس کا استعمال دل کی سنگین بیماری میں مبتلا ایک دن کی نومولود بچی کے لیے کیا گیا۔ دیواس ضلع کے جمنی گاو¿ں کے رہنے والے دھیرج کی بچی کو تشویش ناک حالت میں اجین کے بالاجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ بہتر علاج کے لیے اسے اعلیٰ طبی مرکز منتقل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔

سی ایم ایچ او ڈاکٹر اشوک کمار پٹیل اور پی ایم شری ایئر ایمبولینس کے نوڈل افسر ڈاکٹر آدتیہ ماتھر نے اس سلسلے میں انتظامات کو مربوط کیا۔ بچی کو پہلے سڑک کے ذریعے اجین سے اندور لایا گیا اور اس کے بعد پی ایم شری ایئر ایمبولینس کے ذریعے احمد آباد کے یو این مہتا اسپتال پہنچایا گیا۔ تقریباً دو گھنٹے میں بچی کو احمد آباد پہنچا دیا گیا۔

خاندان کے پاس آیوشمان کارڈ ہے اور اہلیت کے مطابق علاج اور متعلقہ طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

اس سے قبل 12 مئی 2026 کو اجین ضلع کے سنوریا گاو¿ں کے پانچ ماہ کے یَتھارتھ سنگھ رناوت کو دل کی سنگین بیماری کے علاج کے لیے اندور سے بنگلورو بھیجا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد اسے بہتر اور ماہر علاج کے لیے بنگلورو کے نارائنا اسپتال لے جایا گیا۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے بتایا تھا کہ بچے کے علاج کا مکمل خرچ آیوشمان نِرآمیہ اسکیم کے تحت ریاستی حکومت برداشت کرے گی۔ یَتھارتھ کے معاملے میں خاندان نے بتایا تھا کہ نجی ایئر ایمبولینس کا خرچ ان کے لیے برداشت کرنا مشکل تھا۔ ایسے میں سرکاری انتظام کے ذریعے بچے کو ماہر طبی مرکز تک پہنچانے کی سہولت حاصل ہوئی۔

آیوشمان اسکیم سے منسلک سروس

اس سروس کی ایک اہم خصوصیت اسے آیوشمان اسکیم سے جوڑنا ہے۔ حکومت کی معلومات کے مطابق آیوشمان کارڈ رکھنے والے مستحق مریضوں کو سرکاری اور آیوشمان اسکیم سے منسلک اسپتالوں تک ایئر ایمبولینس کی سہولت مفت فراہم کی جاتی ہے۔

حادثات سے قدرتی آفات تک استعمال

پی ایم شری ایئر ایمبولینس کا دائرہ صرف سنگین بیماریوں تک محدود نہیں ہے۔ اسے سڑک حادثات، صنعتی حادثات، قدرتی آفات اور دیگر سنگین طبی حالات میں مریضوں کو اعلیٰ سطح کے طبی اداروں تک پہنچانے کے مقصد سے شروع کیا گیا تھا۔

اس کی اہمیت خاص طور پر ان اضلاع میں بڑھ جاتی ہے جہاں کسی مخصوص بیماری کا سپر اسپیشلٹی علاج دستیاب نہیں ہوتا۔ ایسے معاملات میں مریض کو پہلے بڑے شہر اور ضرورت پڑنے پر دوسری ریاست کے ماہر طبی مرکز تک پہنچانے کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔

مدھیہ پردیش میں مئی 2024 سے شروع ہونے والی اس سروس کا دائرہ اب مستفید ہونے والے مریضوں کی تعداد میں بھی نظر آ رہا ہے۔ اگست 2026 تک 170 سے زائد سنگین مریضوں کو اس سہولت کا فائدہ ملنا اور ستمبر میں ایک دن کی نومولود بچی کو اجین سے احمد آباد کے ماہر اسپتال تک پہنچایا جانا اس کے موجودہ استعمال کی تازہ مثال ہے۔

دو سال میں ایئر ایمبولینس پر 36 کروڑ روپے خرچ

محکمہ صحت کے کمشنر ایس دھن راجو کے مطابق، مدھیہ پردیش حکومت نے 7 جولائی 2026 تک پی ایم شری ایئر ایمبولینس سروس پر مجموعی طور پر 36 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔

مئی 2024 میں سروس شروع ہونے کے بعد سے سنگین مریضوں کو فضائی نقل و حمل کی سہولت فراہم کرنے پر یہ رقم خرچ ہوئی ہے۔ اب تک 170 سے زائد مریض اس سہولت سے مستفید ہو چکے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande