
نئی دہلی، 27 ستمبر (ہ س)۔ سعودی عرب میں سزائے موت کا سامنا کر رہے سری لنکن تمل ہندو نوجوان سیواراسا انوجن کے معاملے میں بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ 24 ستمبر 2026 کو نیپال کی انسانی حقوق کی کارکن جیسمین اوجھا، سری لنکا کی ہندو اسٹرگل کمیٹی کے صدر کنپتھی پلئی سچیتانندن اور تنظیم کے بین الاقوامی صدر ارون اپادھیائے نے کلمونئی میں واقع انوجن کے گھر پہنچ کر ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
وفد نے انوجن کی والدہ، والد اور بھائی کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے گزارے۔ اس دوران اہلِ خانہ نے نوجوان کی گرفتاری، سعودی عرب میں اس کے خلاف چلی قانونی کارروائی اور بعد ازاں سزائے موت تک پہنچنے کی پوری تفصیلات سے وفد کو آگاہ کیا۔ خاندان نے اس دوران اپنی تشویش اور جذباتی کرب بھی شیئر کیا۔
فیس بک پر تبصرے سے شروع ہوا معاملہ
خاندان اور وفد کی جانب سے شیئر کی گئی تفصیلات کے مطابق، انوجن کی قانونی مشکلات سعودی عرب میں فیس بک پر ہونے والی ایک آن لائن بحث کے بعد شروع ہوئیں۔ بتایا گیا کہ ایک صارف نے بھگوان شیو کے حوالے سے مبینہ طور پر قابلِ اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں انوجن نے مذہبی جذبات کے تحت ردِعمل ظاہر کیا۔ بتایا گیا ہے کہ ان کے تبصرے کی شکایت سعودی حکام سے کی گئی، جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ وفد کے مطابق، معاملہ ابتدا میں سائبر کرائم سے متعلق الزامات کے طور پر سامنے آیا اور بعد میں توہین مذہب سے متعلق سنگین الزامات اور سزائے موت تک پہنچ گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری مداخلت کی اپیل
انوجن کے اہلِ خانہ سے ملاقات کے بعد وفد نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف ممالک کی حکومتوں سے معاملے میں فوری مداخلت کرنے کی اپیل کی۔ کارکنان کا کہنا ہے کہ انوجن کے ردِعمل کو مذہبی عقیدے سے جڑے جذباتی ردِعمل کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور معاملے میں انسانی بنیادوں پر راحت کے امکانات تلاش کیے جانے چاہئیں۔ وفد نے عالمی برادری سے سعودی حکام کے سامنے سفارتی سطح پر معاملہ اٹھانے اور نوجوان کی جان بچانے کے لیے کوششیں کرنے کا مطالبہ کیا۔
ہندوستان سے امیدیں
اس پورے معاملے میں ہندوستان سے خصوصی امیدیں وابستہ کی گئی ہیں۔ سری لنکن تمل برادری سے وابستہ رہنماوں کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں ہندوستان کے اہم سفارتی تعلقات ہیں اور ہندوستان نیز سری لنکا کی تمل برادری کے مابین تاریخی اور ثقافتی رشتے بھی قائم ہیں۔ اسی بنیاد پر وفد نے نئی دہلی سے سعودی عرب کے ساتھ اپنے سفارتی رابطوں کے ذریعے معاملے کو اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ ہندوستان کی جانب سے اعلیٰ سطح پر انسانی بنیادوں پر مداخلت کی کوشش انوجن کے معاملے میں راحت کا امکان پیدا کر سکتی ہے۔
خاندان میں بڑھتی تشویش
انوجن کے اہلِ خانہ کے لیے یہ معاملہ صرف قانونی لڑائی نہیں، بلکہ اپنے بیٹے کی زندگی بچانے کی جنگ بن گیا ہے۔ خاندان کی جانب سے بین الاقوامی حمایت اور سفارتی مداخلت کی امید کی جا رہی ہے۔ 24 ستمبر کی ملاقات کے ذریعے انسانی حقوق کے کارکنوں نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ انوجن کا معاملہ اب محض سری لنکا یا سعودی عرب تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے سطح پر بھی اٹھایا جانا چاہیے۔
فی الحال اس معاملے کا اگلا اہم پہلو یہ ہوگا کہ سری لنکن حکومت، ہندوستان سمیت دیگر متعلقہ حکومتیں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے انوجن کے معاملے میں کیا سفارتی یا قانونی اقدام کرتے ہیں۔ ہندوستان ہمیشہ سے ایک اہم کردار میں رہا ہے، لہٰذا اگر یہ معاملہ ہندوستان اٹھاتا ہے تو شاید ایک ہندو لڑکے کی جان بچ سکے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن