یوگی حکومت اہل خانہ سے بچھڑے بچوں کی واپسی کے بعد بھی مکمل دیکھ بھال کرے گی
بچوں کی کونسلنگ، تحفظ اور بازآبادکاری بھی یقینی بنائی جائے گی، سات ماہ میں 51 ہزار سے زائد گمشدگی کے معاملات حل کئے گئےلکھنؤ، 26 ستمبر (ہ س)۔ اترپردیش حکومت نے بچوں کے تحفظ کے نظام کو اس سوچ کے ساتھ مزید مضبوط کیا ہے کہ کسی بچے کو صرف اس کے اہل خان
یوگی حکومت اہل خانہ سے بچھڑے بچوں کی واپسی کے بعد بھی مکمل دیکھ بھال کرے گی


بچوں کی کونسلنگ، تحفظ اور بازآبادکاری بھی یقینی بنائی جائے گی، سات ماہ میں 51 ہزار سے زائد گمشدگی کے معاملات حل کئے گئےلکھنؤ، 26 ستمبر (ہ س)۔ اترپردیش حکومت نے بچوں کے تحفظ کے نظام کو اس سوچ کے ساتھ مزید مضبوط کیا ہے کہ کسی بچے کو صرف اس کے اہل خانہ تک پہنچا دینا کافی نہیں، بلکہ ضرورت کے مطابق اس کی کونسلنگ، تحفظ اور بازآبادکاری بھی یقینی بنائی جائے۔ چائلڈ ہیلپ لائن 1098 کے ذریعے مشکل میں پھنسے بچوں تک مدد پہنچانے کے ساتھ ان کی محفوظ واپسی اور واپسی کے بعد کی ضروریات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔گمشدگی یا بحرانی حالات سے گزرنے والے بچوں کو کئی مرتبہ ذہنی اور جذباتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ضرورت کے مطابق کونسلنگ فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ بچے کی حالت اور ضرورت کا جائزہ لے کر اسے ضروری تحفظ اور بازآبادکاری کی خدمات سے جوڑنے کا عمل اپنایا جاتا ہے، تاکہ اہل خانہ کے پاس واپسی کے بعد بچہ معمول کی زندگی میں واپس آنے کے لیے ضروری جذباتی تعاون حاصل کرسکے۔

یکم جنوری سے یکم اگست تک چائلڈ ہیلپ لائن پر بچوں سے متعلق مجموعی طور پر 55 ہزار 791 معاملات موصول ہوئے، جن میں سے 51 ہزار 402 معاملات نمٹا دیے گئے۔ ان میں بچوں کے گم ہونے سے متعلق تقریباً 19 ہزار 811 معاملات شامل تھے، جن میں سے 18 ہزار 230 معاملات کامیابی کے ساتھ حل کیے گئے۔اس کے علاوہ بچوں کے ملنے سے متعلق 8 ہزار 714 معاملات ہیلپ لائن تک پہنچے، جن میں سے 8 ہزار 335 معاملات حل کیے گئے۔ حکومت کی توجہ اب صرف بچوں کو تلاش کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

چائلڈ ہیلپ لائن 1098 کو بچوں کے مسائل سننے اور انہیں متعلقہ سطح تک پہنچانے کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ ہیلپ لائن پر صرف گمشدگی کے معاملات ہی نہیں بلکہ بچوں سے متعلق دیگر مسائل کی اطلاعات بھی موصول ہوتی ہیں۔

ان معاملات میں متعلقہ محکموں اور اداروں کے درمیان تال میل کے ذریعے ضروری کارروائی کی جاتی ہے۔ موصولہ شکایات پر ہونے والی پیش رفت کی نگرانی کرتے ہوئے مقررہ وقت میں ان کے حل کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔محکمہ خواتین و بہبود کی ڈائریکٹر سی. اندومتی نے بتایا کہ ریاستی حکومت بچوں کی سلامتی اور تحفظ کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ گمشدہ بچوں سے متعلق ہر اطلاع کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ سطح پر کارروائی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی تلاش اور محفوظ واپسی کے ساتھ اہل خانہ سے دوبارہ ملانے، کونسلنگ اور ضرورت کے مطابق بازآبادکاری پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande