ایم ایم ڈی آر ترمیم سے جھارکھنڈ میں سرمایہ کاری اور روزگار بڑھے گا: انّپورنا دیوی
رانچی، 26 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال کی ترقی انّ پورنا دیوی نے کہا ہے کہ کانکنی اور معدنیات (ترقی و ضابطہ) یعنی ایم ایم ڈی آر ترمیمی قانون سے جھارکھنڈ میں سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع بڑھیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے ر
JH-ANNPURNA-DEVI-PC-MMDR-RANCH


رانچی، 26 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال کی ترقی انّ پورنا دیوی نے کہا ہے کہ کانکنی اور معدنیات (ترقی و ضابطہ) یعنی ایم ایم ڈی آر ترمیمی قانون سے جھارکھنڈ میں سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع بڑھیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے ریاست کے نوجوانوں کو مقامی سطح پر روزگار ملنے کے امکانات بڑھیں گے اور نقل مکانی روکنے میں مدد ملے گی۔

بی جے پی کے ریاستی دفتر میں ہفتہ کو منعقدہ پریس کانفرنس میں انّ پورنا دیوی نے ایم ایم ڈی آر ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے والی جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم)، کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنماوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں قانون کے حوالے سے عوام کو گمراہ اور الجھن میں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ جھارکھنڈ معدنی وسائل سے مالا مال ریاست ہے اور ترمیم شدہ قانون کا مقصد کانکنی کے شعبے میں ٹیکس نظام کو زیادہ یکساں اور شفاف بنانا ہے۔ ان کے مطابق نیلامی کے بعد مختلف ٹیکس اور سیس عائد کیے جانے سے کاروباری افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ترمیم سے ایسی غیر یقینی صورت حال کم ہوگی اور کانکنی کے شعبے میں کاروبار کرنا آسان ہوگا۔

دراصل ایم ایم ڈی آر ترمیمی ایکٹ 2026 کے تحت معدنی حقوق اور معدنیات سے مالا مال زمین پر معدنیات کی مقدار یا قدر کی بنیاد پر ریاستوں کی جانب سے ٹیکس، سیس یا دیگر محصولات عائد کرنے پر نئی پابندیاں نافذ ہوئی ہیں۔ اسی شق کو لے کر جھارکھنڈ حکومت اور مرکز کے درمیان اختلاف ہے۔ جھارکھنڈ حکومت نے ترمیم کو چیلنج کرنے کے لیے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انّ پورنا دیوی نے کہا کہ ترمیم سے ٹیکس نظام میں یکسانیت آئے گی اور من مانی طریقے سے ٹیکس و سیس عائد کرنے کے انتظام پر روک لگے گی۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی، درمیانی اور بڑی صنعتوں کو اس سے کاروبار میں سہولت ہوگی اور قانونی غیر یقینی صورت حال کم ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ہدف 2047 تک وکست بھارت کی تعمیر کے ساتھ ریاستوں کو بھی ترقی کی رفتار دینا ہے۔ ایم ایم ڈی آر ترمیم اسی سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے اور اس سے ’وکست جھارکھنڈ‘ کے وڑن کو بھی تقویت ملے گی۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ترمیم شدہ قانون صرف جھارکھنڈ تک محدود نہیں ہے، بلکہ اڈیشہ، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ، کرناٹک اور کیرالہ سمیت دیگر ریاستوں میں بھی نافذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں کئی کانگریس کی حکومت والی ریاستیں ہیں، جہاں قانون کو لے کر جھارکھنڈ جیسا اعتراض نہیں کیا جا رہا ہے۔

وہیں، جھارکھنڈ حکومت کا کہنا ہے کہ ترمیم سے ریاست کی معدنیات سے آمدنی حاصل کرنے کی صلاحیت اور مالی اختیارات متاثر ہوں گے۔ ریاست کے وزیر خزانہ رادھا کرشن کشور نے کہا ہے کہ حکومت ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ جائے گی اور معدنی سیس سے متعلق ریاست کے دعوے کو برقرار رکھے گی۔

انّپورنا دیوی نے الزام لگایا کہ جھارکھنڈ حکومت وقت پر معدنیات کی نیلامی نہیں کرا رہی ہے اور ریاست کی قانونی آمدنی کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح سرکاری خزانے میں آمدنی بڑھانے کے بجائے ذاتی آمدنی بڑھانا ہے۔

وزیر نے کہا کہ حکومت کوئلہ چوری اور غیر قانونی کانکنی پر روک لگانے کے بجائے ایسے قانون کی مخالفت کر رہی ہے، جس سے قانونی کانکنی کے کاروبار کو فروغ مل سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ترمیم شدہ قانون کے نفاذ سے سرخ فیتہ شاہی کم ہوگی، قوانین میں یکسانیت آئے گی اور قانونی کاروبار کو فروغ ملے گا۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ریاست میں قانونی کاروبار کرنے والوں کو کسی طرح کے قانونی پیچیدگی یا غیر یقینی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس کے لیے واضح اور یکساں قوانین ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترمیم کے ذریعے کانکنی کے شعبے کو منظم اور شفاف بنانے کی سمت میں قدم اٹھایا گیا ہے۔

پریس کانفرنس میں ریاستی ترجمان ابھے سنگھ اور مرتنجے شرما، ریاستی میڈیا کے شریک انچارج ستیش سنہا اور سورج شاہ دیو بھی موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande