برج بھوشن سنگھ کو بری کرنے کے حکم کے خلاف خاتون پہلوانوں کی درخواست پر 28 ستمبر کو سماعت
نئی دہلی، 26 ستمبر(ہ س)۔ دہلی کی راؤج ایونیو سیشن کورٹ نے جنسی ہراسانی کے معاملے میں بھارتی کشتی فیڈریشن کے سابق صدر برج بھوشن شرن سنگھ اور سابق سکریٹری ونود تومر کو بری کرنے کے ٹرائل کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی چار خاتون پہلوانوں کی درخواست پر
برج بھوشن سنگھ کو بری کرنے کے حکم کے خلاف خاتون پہلوانوں کی درخواست پر 28 ستمبر کو سماعت


نئی دہلی، 26 ستمبر(ہ س)۔ دہلی کی راؤج ایونیو سیشن کورٹ نے جنسی ہراسانی کے معاملے میں بھارتی کشتی فیڈریشن کے سابق صدر برج بھوشن شرن سنگھ اور سابق سکریٹری ونود تومر کو بری کرنے کے ٹرائل کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی چار خاتون پہلوانوں کی درخواست پر 28 ستمبر کو سماعت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسپیشل جج دگ وجے سنگھ نے یہ حکم جاری کیا۔

چار خاتون پہلوانوں نے راؤج ایونیو کورٹ کی مجسٹریٹ عدالت کے 3 اگست کے حکم کو سیشن کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ خاتون پہلوانوں کا کہنا ہے کہ مجسٹریٹ عدالت کا فیصلہ درست نہیں ہے اور یہ فیصلہ منتخب شواہد کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مجسٹریٹ عدالت نے مقررہ قانونی طریقہ کار کو نظر انداز کیا ہے۔

مجسٹریٹ عدالت نے 3 اگست کو اپنے حکم میں متاثرہ خاتون پہلوانوں کی جانب سے طویل عرصے تک خاموش رہنے اور ملزمان کے ساتھ معمول کے تعلقات برقرار رکھنے کو بنیاد بناتے ہوئے برج بھوشن سنگھ اور ونود تومر کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس معاملے میں دہلی پولیس کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں بھارتی تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعات 354، 354ڈی، 354اے اور 506(1) کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔سماعت کے دوران برج بھوشن سنگھ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ 7 ستمبر 2022 کو مبینہ واقعے کے دن وہ بھارت میں موجود نہیں تھے۔ برج بھوشن کے وکیل راجیو موہن نے کہا تھا کہ اوور سائٹ کمیٹی کی رپورٹ مرکزی حکومت نے دہلی پولیس کمشنر کو بھیجی تھی۔انہوں نے بتایا تھا کہ خاتون پہلوانوں کا پہلا احتجاج 18 جنوری 2023 کو جنتر منتر پر ہوا تھا۔ 19 جنوری 2023 کو ایک پہلوان نے حکومت کے نمائندوں سے ملاقات کرکے کہا تھا کہ وہ اپنا معاملہ حکومت کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔سماعت کے دوران خاتون پہلوانوں کی جانب سے وکیل ربیکا جان نے کہا تھا کہ اوور سائٹ کمیٹی ضابطوں کے مطابق تشکیل نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جن دفعات کے تحت چارج شیٹ داخل کی گئی ہے، اسی بنیاد پر ملزم کے خلاف الزامات طے کیے جانے چاہئیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande