
سنبھل، 26 ستمبر (ہ س)۔ اتر پردیش کے سنبھل کے اینچوڑا کمبوہ میں واقع شری کلکی دھام کے پیٹھادھیشور آچاریہ پرمود کرشنم کو فون پر جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ دھمکی دینے والے شخص کی شناخت کُل ویر سنگھ سدھو کے طور پر بتائی گئی ہے۔
اینچوڑا کمبوہ میں آچاریہ پرمود کرشنم نے ہفتہ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہیں بین الاقوامی نمبروں سے دھمکی آمیز کال موصول ہو رہی تھیں۔ دو تین روز قبل ایک آڈیو پیغام کے ذریعے انہیں بم سے اڑانے اور راکٹ لانچر سے حملہ کرنے کی دھمکی دی گئی۔ ان کے مطابق دھمکی دینے والے نے اپنا نام کل ویر سنگھ سدھو بتایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دھمکی آمیز آڈیو اور متعلقہ نمبر اتر پردیش پولیس، سنبھل کے پولیس سپرنٹنڈنٹ، پنجاب پولیس اور مرکزی وزارت داخلہ کو بھیج دیے گئے ہیں۔ انہوں نے آڈیو کی نقل بھی حکام کو فراہم کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس افسران سے ملی معلومات کے مطابق دھمکی دینے والے کا تعلق ببر خالصہ سے بتایا گیا ہے، تاہم اس سلسلے میں پولیس کی جانب سے سرکاری تصدیق ہونا باقی ہے۔
آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ کچھ طاقتیں ملک کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں اور ہندوؤں اور سکھوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شری کلکی دھام میں گرو گووند سنگھ جی مہاراج، بھگوان مہاویر اور بھگوان بدھ کی مورتیاں نصب کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرو گووند سنگھ جی مہاراج کی مورتی کلکی دھام میں نصب ہو کر رہے گی اور تعمیراتی کام کسی بھی قیمت پر نہیں رکے گا۔
انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے سکیورٹی فراہم کرنے اور کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کا قتل بھی ہوجائے تو کلکی دھام کی تعمیر نہیں رکنی چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے کلکی دھام ٹرسٹ کو اپنے ماتحت لینے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد