
نوئیڈا، 25 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو پانچ روزہ اتر پردیش انٹرنیشنل ٹریڈ شو (یوپی آئی ٹی ایس) کے چوتھے ایڈیشن کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک، صنعتی ترقی کے وزیر نند گوپال گپتا ’نندی‘، راکیش سچان سمیت کئی وزرا اور افسران موجود تھے۔ اس تجارتی نمائش میں پہلی بار آسٹریا، جاپان، روس، سنگاپور، بیلاروس اور ویتنام شراکت دار ممالک کے طور پر شرکت کر رہے ہیں۔
ان ممالک کی شرکت سے تجارتی شراکت داری، تکنیکی تعاون، مصنوعات کی فراہمی، سرمایہ کاری اور ریاست کی مصنوعات کو نئی منڈیوں تک پہنچانے کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ بین الاقوامی اور ملکی خریداروں کے درمیان بی 2بی ملاقاتوں اور شعبہ جاتی پالیسی اجلاسوں کے ذریعے ریاست میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا کیے جائیں گے۔
گریٹر نوئیڈا کے انڈیا ایکسپو سینٹر اینڈ مارٹ میں 25 سے 29 ستمبر تک منعقد ہونے والے یوپی آئی ٹی ایس میں 2,400 سے زیادہ نمائش کنندگان، 1.5 لاکھ سے زائد بی ٹو بی خریداروں اور زائرین، 4.5 لاکھ سے زیادہ نمائش دیکھنے والے عام لوگ اور 85 ممالک کے 550 سے زیادہ بین الاقوامی خریداروں کی شرکت متوقع ہے۔
اب تک 72 ممالک سے غیر ملکی خریداروں کے رجسٹریشن حاصل ہوچکے ہیں۔ ایف آئی ای او کے ہوسٹڈ بائر پروگرام کے ذریعے حقیقی خریداروں، درآمدکار، تقسیم کاروں، ریٹیلرز، سورسنگ ایجنٹس، پروکیورمنٹ سربراہان، تجارتی ایسوسی ایشنوں اور کاروباری اداروں کو اس پروگرام سے جوڑا جارہا ہے۔ بی 2 بی میچ میکنگ، نیٹ ورکنگ اور بزنس سیشن کے ذریعے خریداروں اور نمائشکاروں کو براہ راست کاروباری بات چیت کا موقع ملے گا۔
یوپی آئی ٹی ایس میں اتر پردیش کے صنعتی، زرعی، دستکاری اور خدمات کے شعبوں کی گوناگوں صلاحیتوں کو پیش کیا جائے گا۔ اس میں زراعت اور متعلقہ شعبے، آٹوموبائل، ای وی اور آٹو کمپوننٹس، ایوی ایشن، دفاع، الیکٹرانکس اور ای کامرس، آئی ٹی اور اسمارٹ سٹی سلوشنز، فلم اور تفریح، ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری، خوراک کی ڈبہ بندی اور ایف ایم سی جی، باغبانی، ہینڈ لوم، دستکاری اور ٹیکسٹائل، صحت، ویلنس، آیوش، دواسازی اور طبی آلات، بنیادی ڈھانچہ، انجینئرنگ، مینوفیکچرنگ اور ریئل اسٹیٹ، چمڑا، سیاحت اور ہاسپیٹیلٹی، کھیل، کھلونے، قابل تجدید توانائی، بجلی، کان کنی، لاجسٹکس اور گودام، ریٹیل، مالیاتی خدمات، تعلیم اور ہنرمندی، پیکیجنگ اور پرنٹنگ، نیز پانی، صفائی اور گندے پانی کو ٹھکانے لگانے جیسے شعبے شامل ہوں گے۔
نمائش میں ایم ایس ایم ای کی ترقی، صنعت کاری اور ہنرمندی کی ترقی، کلسٹر ڈیولپمنٹ، ڈیجیٹل تبدیلی، بین الاقوامی تعاون، سرکاری خریداری اور مارکیٹنگ میں معاونت، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دیہی و شہری ترقی سے متعلق سرکاری اسکیموں اور پالیسیوں کو بھی نمایاں طور پر پیش کیا جائے گا۔ صنعتی سرمایہ کاری، برآمدات، ٹیکسٹائل اور گارمنٹس سے متعلق اتر پردیش کی شعبہ جاتی پالیسیاں بھی اس پروگرام کا حصہ ہوں گی۔
یوپی آئی ٹی ایس میں اتر پردیش کی ثقافتی اور غذائی شناخت کو بھی خصوصی مقام دیا گیا ہے۔ ’ایک ضلع، ایک پروڈکٹ‘ (او ڈی او پی) پہل کے ساتھ اس سال ’ایک ضلع، ایک پکوان‘ (او ڈی او سی) کو بھی خصوصی شناخت دی جائے گی۔ اس کے ذریعے ریاست کے مختلف اضلاع کی روایتی کھانا پکانے کی ترکیبوں، مقامی پکوانوں اور غذائی ورثے کو ملک اور دنیا کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔
پانچ روزہ اس پروگرام میں تجارتی سرگرمیاں،معلوماتی اجلاس، ثقافتی پروگرام، لائیو پرفارمنس، ایوارڈز، فیشن شو اور لیزر شو سمیت متعدد سرگرمیاں ہوں گی۔معلوماتی پروگرام میں مصنوعی ذہانت، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل تجارت، خوراک کی ڈبہ بندی ، ایم ایس ایم ای، عالمی آزاد تجارتی معاہدوں اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں پر تبادلہ خیال ہوگا۔ اس سے صنعت سے وابستہ افراد کو علم کے تبادلے، بات چیت اور تعاون کے مواقع حاصل ہوں گے۔
یوپی آئی ٹی ایس تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ اتر پردیش کی ثقافت، پکوان ، اختراع اور کاروباری صلاحیتوں کو بھی عالمی پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ یہاں ریاست کی مینوفیکچرنگ صلاحیت، ایم ایس ایم ای ایکو سسٹم، او ڈی او پی اور او ڈی او سی مصنوعات، دستکاری، ٹیکسٹائل، زراعت، خوراک، سیاحت، اختراع اور ابھرتی ہوئی صنعتوں کو ملک و بیرون ملک کے خریداروں، سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی۔
یوپی آئی ٹی ایس 2026 گزشتہ تین ایڈیشنوں کی کامیابی کی بنیاد پر آگے بڑھ رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے افتتاح کردہ 2025 کے ایڈیشن میں مجموعی طور پر 5,07,099 افراد پہنچے تھے، جن میں 1,40,735 بی 2 بی سے متعلق افراد شامل تھے۔ 35 ہزار مربع میٹر سے زیادہ رقبے میں منعقدہ نمائش میں 2,228 نمائش کنندگان نے شرکت کی تھی۔ ایف آئی ای او کے ذریعے 85 ممالک کے 550 سے زیادہ غیر ملکی خریداروں کی شرکت نے اس پروگرام کے بین الاقوامی کردار کو مزید مضبوط کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد