
نئی دہلی، 25 ستمبر (ہ س)۔مرکزی تفتیشی بیورو نے امریکی شہریوں کو نشانہ بنا کر کی جانے والی بین الاقوامی سائبر دھوکہ دہی کے معاملے میں مرکزی ملزم انکیت ستیش چندر پانڈے کو گرفتار کر لیا ہے۔ سی بی آئی کے مطابق احمد آباد سے ایک غیر قانونی کال سینٹر چلا کر امریکی شہریوں سے 72 لاکھ 10 ہزار امریکی ڈالر سے زائد کی دھوکہ دہی کی گئی۔
سی بی آئی نے اس معاملے میں 8 ستمبر کو ملزم اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ تفتیشی ایجنسی کے مطابق سال 2024 سے احمد آباد میں ایک غیر قانونی کال سینٹر کے ذریعے بڑے پیمانے پر بین الاقوامی سائبر مالیاتی دھوکہ دہی کا نیٹ ورک چلایا جا رہا تھا۔
سی بی آئی کے مطابق ملزمان نے مجرمانہ سازش کے تحت خود کو امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی)، امریکی اٹارنی، سائبر سکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی (سی آئی ایس اے) اور دیگر وفاقی اداروں کے افسران ظاہر کرتے ہوئے متاثرین سے رابطہ کیا۔وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول (وی او آئی پی) کے ذریعے امریکی شہریوں کو بتایا جاتا تھا کہ ان کے کمپیوٹر سسٹم کا استعمال کسی دوسرے شخص نے بچوں سے متعلق فحش مواد تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کیا ہے۔اس کے بعد ملزمان متاثرین کو اپنے بینک کھاتوں سے رقم نکالنے، سونا خریدنے اور اسے امریکہ میں ان کی جانب سے بھیجے گئے کورئیر اہلکاروں کے حوالے کرنے کے لیے کہتے تھے۔ سی بی آئی کے مطابق، اس طریقے سے متاثرین سے 72 لاکھ 10 ہزار امریکی ڈالر سے زائد کی رقم ٹھگی گئی۔
مقدمہ درج ہونے کے بعد سی بی آئی نے احمد آباد میں ملزم سے منسلک مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر تلاشی مہم چلائی۔ اس دوران ڈیجیٹل شواہد پر مشتمل متعدد الیکٹرانک آلات ضبط کیے گئے۔سی بی آئی کے مطابق غیر قانونی کال سینٹر قائم کرنے اور اسے چلانے میں اہم کردار ادا کرنے والے انکیت ستیش چندر پانڈے کو 23 ستمبر کو گرفتار کیا گیا۔ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan