
نئی دہلی، 24 ستمبر (ہ س)۔دہلی ہائی کورٹ نے بینک یونینوں کے مجوزہ احتجاج کے سلسلے میں دہلی پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ جنتر منتر کے بجائے کسی متبادل مقام پر پُرامن احتجاج کی اجازت دینے سے متعلق درخواست پر پیر، 28 ستمبر تک فیصلہ کرے۔ جسٹس امیت مہاجن کی بنچ نے پولیس کو یہ بھی ہدایت دی کہ اپنے فیصلے سے پیر کو شام 4 بجے تک بینک یونینوں کے وکیل کو آگاہ کیا جائے۔
یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (یو ایف بی یو) کی دہلی اسٹیٹ یونٹ نے 28، 29 اور 30 ستمبر کو جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت طلب کی تھی۔ پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ جنتر منتر پر امن و قانون کی صورت حال سے متعلق خدشات ہیں۔ اس کے بعد عدالت نے پولیس کو یونینوں کی جانب سے تجویز کردہ متبادل مقام کی درخواست پر غور کرنے کی ہدایت دی۔
بینک یونینوں کی جانب سے دلیل دی گئی کہ پُرامن اجتماع اور احتجاج کا حق آئین کے آرٹیکل 19(1)(اے ) اور 19(1)(بی) کے تحت محفوظ ہے۔ عرضی میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ احتجاج کی اجازت دینے میں تاخیر یا بروقت فیصلہ نہ کیے جانے کے باعث یونینیں پہلے 11 اور 18 ستمبر کو مجوزہ احتجاج نہیں کر سکی تھیں۔بینک ملازمین کے اہم مطالبات میں بینکنگ شعبے میں پانچ روزہ ورکنگ ویک نافذ کرنا، حکومت کی پرفارمنس لنکڈ انسینٹیو (پی ایل آئی) اسکیم واپس لینا یا فی الحال اسے ملتوی رکھنا اور یونینوں کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے اس میں تبدیلی کرنا شامل ہے۔عرضی میں کہا گیا تھا کہ یونینوں نے 28 سے 30 ستمبر تک تین روزہ ملک گیر ہڑتال اور 26 اکتوبر سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا بھی پروگرام تجویز کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan