جنگلات کے انتظام میں جدید ٹیکنالوجی اور مقامی علم کا امتزاج ضروری: بھوپیندر یادو
نئی دہلی، 25 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو نے جمعہ کو کہا کہ جنگلات کے انتظام کو مو¿ثر بنانے کے لیے علاقے کی ضروریات اور مقامی حالات کے مطابق صلاحیت سازی ضروری ہے۔ تربیت میں مقامی علم کے ساتھ سائنسی نقطہ
Bhupender-yadav-inugrated-wors


نئی دہلی، 25 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو نے جمعہ کو کہا کہ جنگلات کے انتظام کو مو¿ثر بنانے کے لیے علاقے کی ضروریات اور مقامی حالات کے مطابق صلاحیت سازی ضروری ہے۔ تربیت میں مقامی علم کے ساتھ سائنسی نقطہ نظر اور نئی ٹیکنالوجیز کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جیکا) کے تعاون سے جمعہ کو منعقدہ ’جنگلات کے موثر انتظام کے لئے صلاحیت سازی کو فروغ دینے سے متعلق پروجیکٹ‘ کے موضوع پر ورکشاپ کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگلات موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور جنگلات پر منحصر لوگوں کی روزی روٹی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اس لیے صف اول کے جنگلاتی اہلکاروں کی عملی اور انتظامی، دونوں سطحوں پر صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگلات میں آگ لگنے کا انتظام آج عالمی چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے میں اس منصوبے کے ذریعے جنگلات کی آگ کے انتظام، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور موسمیاتی اقدامات کے شعبوں میں تکنیکی اور زمینی سطح کی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صلاحیت سازی صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ جدید ٹیکنالوجیز اور زمینی سطح پر کامیاب طریقہ کار کو بھی تربیت کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

وزیر موصوف نے ہر علاقے کی مخصوص ضروریات کے مطابق الگ الگ صلاحیت سازی کے ماڈیول تیار کرنے پر زور دیا۔ ان ماڈیولز میں مقامی علم اور علاقائی چیلنجز کو شامل کرنے کی بات کہی گئی۔ منصوبے کے تحت عملی تکنیکی حل تیار کرنے کے لیے تحقیق و ترقی، زمینی سطح پر ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے پائلٹ پروجیکٹس اور تربیتی اداروں کو مضبوط بنانے جیسے کام کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سارک اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ بہتر طریقہ کار کا تبادلہ کرنے پر بھی زور دیا جائے گا۔

جیکاانڈیا کے سینئر نمائندے ایجی واکاماتسو نے کہا کہ یہ منصوبہ ہندوستانی اور جاپانی تحقیقی اداروں کو ایک ساتھ لاکر جنگلات کے انتظام، موسمیاتی تبدیلی اور صلاحیت سازی سے متعلق عالمی چیلنجوں کے حل تیار کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم بنے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جنگلات کے شعبے میں جیکا کی ہندوستان کے ساتھ شراکت داری تقریباً تین دہائیوں پرانی ہے اور اس سے سات لاکھ سے زیادہ افراد مستفید ہوئے ہیں۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں لکڑی کے بہتر استعمال اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگلات کے انتظام میں بہتری اور مشترکہ علمی تحقیق پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

ورکشاپ کے دوران منصوبے کے خاکے اور تعاون کے اہم شعبوں پر مبنی ایک کتابچہ بھی جاری کیا گیا۔ تکنیکی اجلاس میں وزارت نے منصوبے کے مقاصد اور دائرہ کار کی معلومات فراہم کیں۔ اس کے بعد جیکا کے نمائندوں نے اپنے خیالات پیش کیے اور ریاستوں، تحقیقی اداروں اور مرکزی تربیتی اداروں کے نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔

سات سالہ یہ منصوبہ 26-2025 سے 32-2031 تک جاری رہے گا۔ اس کا مجموعی بجٹ 537.10 کروڑ روپے ہے، جس میں جائیکا کی جانب سے 440.42 کروڑ روپے اور حکومت ہند کی جانب سے 96.68 کروڑ روپے کی شراکت ہوگی۔ منصوبے میں ملک کی تمام ریاستوں کو شامل کیا جائے گا۔ نئی ریاستوں کو ترجیح دینے کے ساتھ پہلے کے متعلقہ منصوبے میں شامل ریاستوں کو بھی تعاون فراہم کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande