
نوئیڈا، 25 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے امت شاہ نے جمعہ کو کہا کہ آج اتر پردیش میں سرمایہ کاری کا ماحول پیدا ہوا ہے۔ سرمایہ کاری کے ماحول کی پہلی ترجیح اچھا امن و امان ہے۔ مضبوط صنعتی پالیسیاں بنائی گئیں۔ صنعت کی حوصلہ افزائی اور سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آج یہاں انڈیا ایکسپو سینٹر اینڈ مارٹ میں پانچ روزہ اتر پردیش انٹرنیشنل ٹریڈ شو (یو پی آئی ٹی ایس) کے چوتھے ایڈیشن کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ یہاں صنعت کے لیے اچھا ماحول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک زمانے میں یوپی پر مافیا کی حکومت تھی۔ 2017 میں یہاں بی جے پی کی حکومت بنی تھی۔ اس کے بعد یوپی سے مافیا کو ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے آج اتر پردیش میں سرمایہ کاری کا ماحول پیدا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے تین بار وزیر اعظم رہ کر پالیسیاں بنائیں اور زمینی سطح پر پالیسیاں مناسب طریقے سے نافذ کیں۔ انہوں نے کہا کہ تجربے کی بنیاد پر، پالیسیوں میں کی جانے والی تبدیلیاں اور نئی پالیسیاں جو بنائی جانی تھیں،اس پر وزیر اعظم نے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور ہندوستان کو پوری دنیا میں ایک پرکشش مینوفیکچرنگ مرکز بنانے کے لیے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ منحرف لوگ ہندوستان کے جی ڈی پی کے اعداد و شمار کو بھی غلط ثابت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے جی ڈی پی کی شرح نمو حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اتنی ہنگامہ آرائی کے درمیان بھی ہندوستان نے سب سے زیادہ 7.8شرح نمو حاصل کی ہے۔ اس نے اپنی ترقی کی شرح کو برقرار رکھا ہے اور اس میں اضافہ بھی کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2047 تک دنیا کے ہر شعبے میں پہلے نمبر پر آنے کا ہندوستان کا عزم پورا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2015 کے مقابلے میں الیکٹرانک مصنوعات کی برآمدات میں 11 گنا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ چھ ریاستوں میں 12 سیمی کنڈکٹر پروجیکٹ قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اب بھی اسے ایک مردہ معیشت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن کی سوچ مر چکی ہے انہیں ترقی نہیں دکھائی دیتا ہے۔ انہیں ہر جگہ مردہ ہی دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ ہندوستان کی ترقی نہیں دیکھ سکتے۔ ہمارے ماریشس، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، یورپی ممالک کی چار ملکی ایسوسی ایشن، برطانیہ، عمان وغیرہ کے ساتھ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے معاہدے ہیں۔ اس ایف ڈی آئی نے صنعت کی برآمدی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ بہت سی رکاوٹوں کے باوجود ہم نے ترقی کو برقرار رکھا ہے۔
یوپی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ہم نے ڈیفنس کوریڈور کا اسٹال دیکھا۔ جھانسی، چترکوٹ، لکھنؤ، آگرہ، علی گڑھ، کانپور کے گلیارے دیکھے۔ دفاعی سازوسامان، مینوفیکچرنگ کے لیے یہاں سرمایہ کاری آ رہی ہے اور اس سے نہ صرف اتر پردیش بلکہ پورے ملک میں دفاعی پیداوار میں ترقی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دفاعی پیداوار تقریبا 1,78,000 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013-14 کے مقابلے میں ہم نے دفاعی مصنوعات کی برآمدات میں 56 گنا اضافہ کیا ہے اور آج ہندوستان کی دفاعی مصنوعات 80 ممالک کو برآمد کی جا رہی ہیں۔ اس میں اتر پردیش کا بہت بڑا تعاون ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوگی حکومت نے اسے بنیادی ڈھانچے سے جوڑنے کے لیے سازگار پالیسیاں بنانے کے لیے بہت کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج یوپی میں بنایا گیا برہموس پاکستان کی نیند اڑا دیتا ہے۔ یہ تبدیلی کی سب سے بڑی علامت ہے۔ امیٹھی میں بنی اے کے 203 اسالٹ رائفل نے آج نکسلیوں اور دہشت گردوں کی نیند اڑا دی ہے۔
ایک وقت تھا جب ایس پی اور بی ایس پی ساتھ تھے۔ یہاں ایک جرائم کا منظر تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ کٹہ غیر قانونی تمنچوں کی فیکٹری لگی ہوئی ہے۔ ایک قصبے سے دوسرے قصبے میں گاڑیاں چوری کرنے کی ایک گھریلو صنعت تھی۔ زنجیر چھیننے میں نوجوانوں کو مہارت تھی۔ آج 10 سال کے اندر صورتحال مختلف ہے۔ دفاعی کوریڈور کٹہ صنعت کی جگہ بنایا گیا ہے۔ گاڑیوں کی تیاری گاڑیوں کی چوری کی جگہ لے رہی ہے۔ زنجیر چھیننے کی صنعت کی جگہ میڈیکل ڈیوائس پارک تعمیر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔ اتر پردیش، جس میں لکھنؤ میں انویسٹرس سمٹ منعقد کرنے کی ہمت نہیں تھی، آج صنعت کو اتر پردیش میں لانے کی بنیادی وجہ بن گیا ہے۔ یہ تبدیلی ڈبل انجن حکومت کی وجہ سے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوگی کی حکومت بننے کے بعد ایس پی اور بی ایس پی کے زمانے کی تمام غنڈہ گردی ختم ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے ملک اور دنیا کے لیے یہاں صنعتیں قائم کرنے کا اچھا ماحول پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کاروں کے مسائل کو تیزی سے حل کیا جا رہا ہے۔ ملک اور دنیا کی صنعت کو سرخ قالین بچھا کر لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے کامیاب نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ یوپی کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے لاکھوں اور کروڑوں مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یوپی کے ہوائی اڈے، ایکسپریس وے اور کئی قسم کے بنیادی ڈھانچے کے کاموں نے یوپی میں سرمایہ کاری کے لیے اچھا ماحول پیدا کیا ہے اور اس کی وجہ سے آج اتر پردیش دن رات چار گنا رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوپی کے سات شہروں میں میٹرو چل رہی ہے، جو ملک کی کسی بھی ریاست میں سب سے زیادہ ہے۔ بھدوہی کے قالین، فیروز آباد کے شیشے، کنوج کے خوشبو، بنارس کی ریشم کی ساڑی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اس کی اپنی شناخت ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی