
نئی دہلی، 24 ستمبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ خدمت ہی بنیادی مقصد ہونا چاہیے اور خدمت کا پیغام نصیحت دے کر نہیں بلکہ اپنے طرز عمل اور کام کے ذریعے دینا چاہیے۔ انہوں نے سیوا سنکلپ یاترا میں شامل نوجوانوں سے کہا کہ سیاست میں کتنی ہی بڑا اقتدار یا بلندی حاصل ہو جائے، ان کا راستہ خدمت کا ہی ہونا چاہیے اور انہیں کبھی خدمت کے راستے سے بھٹکنا نہیں چاہیے۔
وزیر اعظم نے ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کے تحت وڈنگر سے وارانسی جانے والے سیوا یاتریوں سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”خدمت کرتے ہوئے ہی خدمت کا پیغام دینا ہے، خدمت کی نصیحت نہیں دینا ہے ۔ ہم خدمت کر کے ہی خدمت کا پیغام دیں گے۔“ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ان کے اخلاق و کردار سے نظر آنا چاہیے کہ اقتدار کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جائے، خدمت ہی ان کی راہ رہے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وڈنگر اور وارانسی دو قدیم اور متحرک شہر ہیں۔ ایک ان کی جائے پیدائش ہے تو دوسرا ان کی جائے کار۔ ان دونوں شہروں کے درمیان خدمت کی یہ بڑی مہم چلائی جا رہی ہے۔ مہم کے تحت 20 ٹیمیں 10 ریاستوں کے 193 اضلاع، 773 تحصیلوں اور 10,159 گاو¿ں سے گزر رہی ہیں۔ یاترا کی مجموعی مسافت تقریباً 35,576 کلومیٹر ہے اور اس دوران 380 مقامات پر رات کے قیام کا انتظام کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یاترا کے دوران گرام سبھاؤں، استفادہ کنندگان اور عام شہریوں سے بات چیت، شجرکاری، صفائی مہم، ثقافتی پروگرام اور دیگر خدمت کی سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں یاترا اور خدمت دونوں سماجی روایات سے جڑے رہے ہیں۔ ایسی یاترائیں انسان میں ہمدردی، عاجزی، ٹیم ورک اور نظم و ضبط پیدا کرتی ہیں اور معاشرے سے جڑنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سیاست اور انتخابات اپنی جگہ ہیں اور نظامِ حکمرانی اپنی جگہ، لیکن سیوا یاتری ملک کی تعمیر اور وکست بھارت کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2047 تک وکست بھارت کی تعمیر میں نوجوان طاقت کا اہم کردار ہوگا اور نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملک کے مختلف علاقوں، سماجی طبقات اور لوگوں کی امنگوں کو زمینی سطح پر جا کر سمجھیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ یاترا نوجوانوں کو ہمدردی، عاجزی، ٹیم ورک اور نظم و ضبط سیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے یاتریوں سے اپنے تجربات قلم بند کرنے اور سفر کے دوران ملنے والے لوگوں، ان کے تجربات اور مقامی سطح پر نظر آنے والے اچھے کاموں کی دستاویز تیار کرنے کی اپیل کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جب حکمرانی کی بنیاد میں خدمت کا جذبہ ہوتا ہے تو پالیسیوں کے مرکز میں شہری ہوتے ہیں۔ انہوں نے غریبوں کو مفت اناج، آیوشمان بھارت، پردھان منتری آواس، اجولا، پی ایم کسان اور پی ایم سوریہ گھر جیسی اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خدمت کا جذبہ ہی ان اسکیموں کو آخری فرد تک پہنچانے کی تحریک فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”سیوا پرمو دھرمہ یعنی خدمت ہی سب سے بڑا دھرم ہے۔ نر سیوا نارائن سیوا، یعنی انسان کی خدمت ہی خدا کی خدمت ہے۔“
وزیر اعظم نے کہا کہ گاو¿ں، کسانوں اور مقامی برادریوں کے پاس علم اور تجربے کا وسیع خزانہ ہے۔ ایک گاو¿ں کا اچھا تجربہ دوسرے گاو¿ں کے کام آ سکتا ہے اور کسی ایک علاقے کا تجربہ پورے ملک کی طاقت بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یاترا کے دوران ملک کے تنوع میں اتحاد کو سمجھنے اور اسے دوسرے علاقوں تک پہنچانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
مودی نے کہا کہ سیوا یاتریوں کی محنت اور تجربہ وکست بھارت کی تعمیر کے سفر کو رفتار دیں گے۔ وزیر اعظم نے یاتریوں کے سفر کے بلا رکاوٹ جاری رہنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اب تک جس طرح کام کیا ہے، اسی توانائی کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد