ایس ایف آئی کے بلاک کیے گئے انسٹاگرام اکاونٹ پر تین ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت
نئی دہلی، 24 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کی شکایات اپیلیٹ کمیٹی (جی اے سی) کو ہدایت دی ہے کہ وہ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے انسٹاگرام اکاونٹ کو بلاک کیے جانے کے خلاف دائر اپیل پر فیصلہ کرے۔ جسٹ
DL-HC-SFI-Block-Insta-Account


نئی دہلی، 24 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کی شکایات اپیلیٹ کمیٹی (جی اے سی) کو ہدایت دی ہے کہ وہ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے انسٹاگرام اکاونٹ کو بلاک کیے جانے کے خلاف دائر اپیل پر فیصلہ کرے۔ جسٹس امت مہاجن کی بنچ نے ایس ایف آئی کی اپیل پر تین ہفتوں کے اندر فیصلہ کرنے کی ہدایت دی۔

سماعت کے دوران ایس ایف آئی کی جانب سے پیش وکیل اپر گپتا نے کہا کہ عدالت پہلے بھی اسی نوعیت کے معاملات میں حکومت کو اپیل پر فیصلہ کرنے کی ہدایت دے چکی ہے۔ عدالت نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ ایس ایف آئی نے 12 اگست کو جی اے سی کے سامنے اپیل دائر کی تھی، لیکن اب تک اس پر کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے بعد عدالت نے حکومت کو اپیل پر فیصلہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے عرضی کا ازالہ کر دیا۔

ایس ایف آئی کی عرضی میں کہا گیا ہے کہ انسٹاگرام نے 5 جولائی کو ایس ایف آئی کے دہلی اکاؤنٹ کو یہ کہتے ہوئے مستقل طور پر بند کر دیا تھا کہ یہ کسی دوسرے اکاؤنٹ سے منسلک ہو سکتا ہے جو اس کے قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہو۔ انسٹاگرام نے کہا تھا کہ ایس ایف آئی کا اکاو¿نٹ مقررہ کمیونٹی معیارات پر پورا نہیں اترتا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ انسٹاگرام نے اس بارے میں مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی مبینہ طور پر منسلک اکاونٹ کی شناخت بتائی۔

ایس ایف آئی نے اس کارروائی کے خلاف سب سے پہلے 7 جولائی کو اپیل دائر کی اور اس کے بعد 9 جولائی کو میٹا کے شکایت سے متعلق افسر سے رابطہ کیا۔ تاہم، کوئی جواب نہیں ملا، جس کے بعد تنظیم نے 12 اگست کو جی اے سی سے رجوع کیا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ 16 ستمبر تک جی اے سی کی ویب سائٹ پر اپیل کی حیثیت ”زیرِ کارروائی“ دکھائی جا رہی تھی، جبکہ 30 دن سے زیادہ کا وقت گزر چکا تھا۔ عرضی میں آئی ٹی قانون کے ضابطہ 3 اے (4) کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تحت جی اے سی کو اپیلوں پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 30 کیلنڈر دن کے اندران کا حتمی طور پرازالہ کرنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande