ٹی ایم سی کے نام اور انتخابی نشان کے تنازعہ پر انتخابی کمیشن کو جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت
نئی دہلی، 24 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے نام اور اس کے انتخابی نشان سے متعلق تنازعہ پر جلد فیصلہ کرے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے انتخابی کمیشن سے کہا کہ وہ مقر
SC-TMC-Election-Symbol-Dispute


نئی دہلی، 24 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے نام اور اس کے انتخابی نشان سے متعلق تنازعہ پر جلد فیصلہ کرے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے انتخابی کمیشن سے کہا کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اس معاملے پر فیصلہ کرے۔ معاملے کی اگلی سماعت 28 ستمبر کو ہوگی۔

سماعت کے دوران ممتا بنرجی کی جانب سے پیش سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ انتخابی کمیشن اس معاملے پر فیصلہ کرنے میں تاخیر کر رہا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کمیشن کو اس معاملے کی روزانہ سماعت کرنی چاہیے۔ اس پر عدالت نے الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ اسے فیصلہ کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہے۔ عدالت نے کہا کہ کمیشن ایک مدت مقرر کرے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ تمام فریقوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا وقت ملنا چاہیے، لیکن معاملے کو غیر ضروری طور پر طول نہیں دیا جا سکتا۔

ممتا بنرجی نے انتخابی کمیشن کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جس میں ترنمول کانگریس کے دو مخالف دھڑوں کے درمیان تنازع کے باعث پارٹی کا نام اور انتخابی نشان فریز کر دیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے 18 ستمبر کو دونوں مخالف دھڑوں کو الگ الگ نام اور انتخابی نشان الاٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سے ایک روز قبل، 17 ستمبر کو کمیشن نے تنازعہ پر حتمی فیصلہ ہونے تک دونوں گروپوں کو ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام اور اس کو الاٹ کئے گئے انتخابی نشان کے استعمال سے روک دیا تھا۔

اپنے عبوری حکم میں الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی اور اروپ رائے کی قیادت والے دونوں دھڑوں کے رہنماو¿ں کا موقف سننے کے بعد کہا تھا کہ اس معاملے میں انتخابی نشان کے تحفظ اور الاٹمنٹ سے متعلق دفعات کے تحت کمیشن کی جانب سے ٹھوس فیصلہ کیے جانے کی ضرورت ہے۔ عرضی میں ممتا بنرجی نے انتخابی کمیشن اور مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رتبرت بنرجی کو فریق بنایا ہے۔

جون میں 58 باغی ارکان اسمبلی نے ممتا دھڑے کے امیدوار سوبھن دیب چٹوپادھیائے کی جگہ پارٹی سے نکالے گئے رہنما رتبرت بنرجی کو مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر منتخب کر لیا اور اسپیکر سے منظوری بھی حاصل کر لی۔ پارٹی کی 28 سالہ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ تھا جب اس میں پھوٹ پڑی۔ چند ہی دن بعد یہ بغاوت پارلیمنٹ تک پہنچ گئی۔ کاکولی گھوش دستیدار کی قیادت میں 20 لوک سبھا ارکان نے کم معروف این سی پی آئی کا دامن تھام لیا اور اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کی ایک الگ دھڑے کے طور پر حمایت کا اعلان کیا، جس سے پارٹی کے پارلیمانی دھڑے میں اختلافات مزید گہرے ہو گئے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande